محترم مفتی صاحب! السلام و علیکم!
میں نے فلاں کی بیٹی اور فلاں کی ہمشیرہ سے شادی کی تھی ،میری بیوی کو میرے گھر والوں سے چھوٹے چھوٹے مسائل تھے، لیکن ہم دونوں خوش تھے اور اس بات کا ذکر میری بیوی اپنے گھر والوں، رشتے د ارو ں اور محلے والوں سے کر چکی تھی، لیکن میرے بیوی اپنے گھر والوں کے دباؤ میں بھی جلدی آ جاتی ہے ۔مفتی صاحب ایک بار میرے سسرال والے میرے گھر آۓ اور معمولی سی بات پہ میری گھر والی کو لے گئے، جبکہ مسئلہ میاں بیوی کا نہیں تھا، بڑوں کا تھا، حمل بھی ضائع کر وا دیا اور اب طلاق مانگ رہے ہیں نہ دینے کی صورت میں عدالت سے خلع لینے کو کہہ رہے ہیں، جبکہ میں نا ہی طلاق دینا چاہتا ہوں نا ہی خلع کیونکہ آج تک میری بیوی نے مجھ سے یہ مطالبہ نہیں کیا اور اگر اب گھر والوں کے کہنے پر مجھ پہ الزامات بھی لگا سکتی ہے جس کا کوئی گواہ نہیں موجود، جبکہ ہم دونوں خوش تھے اس کہ گواہ موجود ہے تو کیا ایسی عدالتی خلع بنتی ہے ؟
سائل کا بیان اگر واقعتًا درست اور مبنی برحقیقت ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ، تو ایسی صورت میں لڑکی کے گھر والوں کا بغیر کسی شرعی عذر کےلڑکی کو اپنے ساتھ لے جانا اس کا حمل ضائع کروادینا اور پھر طلاق کا مطالبہ کرنا اور طلاق نہ دینے کی صورت میں عدالت سے خلع لینے کی دھمکی دینا ،انتہائی نامناسب اور غیر اخلاقی رویہ ہے جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئے اور انہیں اس پر توبہ و استغفار لازم ہے،ایسی صورت حال میں لڑکی کے گھر والوں کو چاہیے کہ وہ بلا وجہ معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر اپنی بیٹی کا گھر خراب کرنے کے بجائے مفاہمت کے ساتھ تنازعات کا حل نکال کر بیٹی کا گھر بسانے کی فکر کریں اور طلاق یا خلع کے مطالبے سے باز رہیں، کیونکہ احادیث طیبہ میں ایسی عورتیں جو شرعی عذر کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرتی ہوں ، انہیں مستحق لعنت قرار دیا گیا ہے۔ لہذا دونوں فریقوں پر لازم ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کے ساتھ معاملات حل کروا کر عنداللہ اجر و ثواب کے مستحق بنیں۔