السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرا نام فضاء زوجہ شمریز ہے، میں بلدیہ ٹاؤن کی رہائشی ہوں، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے سسر نے میرے شوہر سے زبردستی طلاق کے کاغذات پر سائن کروائے ہیں، میرے شوہر کی نہ نیت تھی طلاق دینے کی اور نہ ہی انہوں نے زبانی طور پر طلاق کے الفاظ کہے، انہوں نے صرف دباؤ اور دھمکی کی وجہ سے سائن کیے، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر وہ سائن نہ کرتے تو ان کی والدہ اپنی جان کو نقصان پہنچا لیں گی، اور ان کو گھر سے نکال دیا جائے گا، ان کاغذات میں کیا لکھا ہے، یہ بھی میرے شوہر کو معلوم نہیں تھا، ہمارا نکاح وٹہ سٹہ پر ہوا تھا، میرے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، اس کے بعد میرے سسرال والوں نے ہمیں بھی علیحدہ کرنے کی کوشش شروع کردی، کاغذات ان کے والد نے خود بنوائے اور خود ہی میرے پاس بھجوائے، میرے شوہر نے اس کے بعد بھی کوشش کی کہ وہ کاغذات میرے پاس نہ پہنچے، لیکن ان کے والد نے زبردستی بھجوا دیے، میں نے بھی وہ کاغذات ابھی تک نہیں پڑھے۔ میرا سوال یہ ہے، 1: کیا اس طرح زبردستی دباؤ میں سائن کرنے سے طلاق واقع ہوگئی ہے؟ 2: اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا ہم میاں بیوی پہلے کی طرح رہ سکتے ہیں؟ 3: اگر رجوع کرنا ہو تو کیا طریقہ ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
سائلہ طلاق نامہ کے مذکور کاغذ لے کر اپنے شوہر کے ہمراہ کسی قریبی معتبر دار الافتاء حاضر ہو کر وہاں موجود مفتیانِ کرام سے بالمشافہ اپنا مسئلہ بیان کر کے ان کے جواب کے مطابق عمل کرلے۔