میں نے دوسری شادی ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کر کے کی ہے اور اسے میری پہلی بیوی سے بہت تکلیف تھی اور اکثر غصہ میں آ کر مجھ سے طلاق مانگتی تھی، حالانکہ اسے زیادہ علم نہ تھا طلاق کے بارے میں۔ بس ایک دفعہ ایسے غصے کے حالت میں اُس نے مجھے بہت مجبور کیا طلاق مانگنے پر اور وہ بہت غصے میں تھی اور میں بہت پریشان۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ میں نے ۲ ہی طلاقیں دی ہیں اور ۲ کہنا پر اُس نے تیسری کى بھی ضد کی تو میں نے دے دی۔ اب اُس کو علم نہ تھا کہ ۲ یا ۳ کہہ دینے سے ہو جاتی ہے۔ ۲ گھنٹے بعد بہت زیادہ پچھتا رہی ہے اور میں بھی۔ اب میں اگر اسے چھوڑتا ہوں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ واپس اپنے ملک جا کر ہندو نہ ہو جائے اور اُسے اسلام کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں جس کا وہ افسوس کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر مجھے پتا ہوتا ۳ کہنے سے ختم ہو جاتی ہے تو میں کبھی نہ مانگتی۔ اُسے مسلمان ہوئے بس ۳ مہینے ہوئے تھے اور وہ اسلام کے بارے میں سیکھ رہی تھی، پھر یہ طلاق والے ٹاپیک کے بارے میں پہلے علم نہ تھا۔ براه مہربانی اس بارے میں روشنی فرمائیں کہ ایک نئے مسلمان کو کس طرح بچایا جا سکتا ہے۔ جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ شرعا طلاق کا اختیار مرد کو حاصل ہوتا ہے، جبكہ عورت کا طلاق کے احکام سے ناواقف ہونا طلاق کے وقوع یا عدم وقوع پر اثر انداز نہیں ہوتا، جب مرد نے الفاظ طلاق ادا کر دیئے خواہ غصہ یا مجبوری کی حالت میں ادا كئے ہوں تو بھى اس سے طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا صورت مسولہ میں سائل نے اپنی نو مسلمہ بیوی کو دو طلاق دینے کے بعد اس کے مطالبہ پر تیسری طلاق بھی دے دی تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ جہاں تک اس عورت کے ایمان کے تحفظ کا تعلق ہے تو اس نو مسلمہ کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے اسے دینی مدرسہ یا ادارے سے ان کا رابطہ کر وایا جا سکتا ہے، جو اعانت نو مسلمین کی خدمات فراہم کرتا ہو، لیکن نکاح کی بحالی شرعا ممکن نہیں اور مذکور نو مسلمہ سائل پر حرام ہے، اس کے نو مسلمہ ہونے کو بنیاد بنا کر اسے ساتھ رکھنے سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر دونوں ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو اس کے لیے حلالۂ شرعیہ ضروری ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،چنانچہ اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے، اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
كما في القران: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ﴾ [البـقـرة: ٢٣٠]
وفي الحديث: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.». [صـحيـح البخاري رقم الحديث (٥٢٦١)]
وفي فتح القدير: قالت لزوجها: طلقني وطلقني وطلقني فقال الزوج: طلقت فهي ثلاث. ولو قالت: طلقني طلقني طلقني بلا واو فطلق، فإن نوى واحدة فهي واحدة وإن نوى ثلاثا فثلاث.. [(4/ 113)]
وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (سئل) في رجل سئل عن زوجته فقال أنا طلقتها وعديت عنها والحال أنه لم يطلقها بل أخبر كاذبا فما الحكم؟ (الجواب): لا يصدق قضاء ويدين فيما بينه وبين الله تعالى وفي العلائي عن شرح نظم الوهبانية قال أنت طالق أو أنت حر وعنى به الإخبار كذبا وقع قضاء إلا إذا أشهد على ذلك. اهـ. وفي البحر الإقرار بالطلاق كاذبا يقع قضاء لا ديانة. اهـ. وبمثله أفتى الشيخ إسماعيل والعلامة الخير الرملي. [كتاب الطلاق (1/ 40)]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. [(1/ 473)]
وفي الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) ... (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي. [(3/ 415)]