کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی آج سے تقریباً 10 / 11 ماہ قبل ہوئی ، اس کے کچھ عرصہ بعد سے (لڑکی جو کہ میری پھوپھی زاد بہن ہے ) کی ماں کی وجہ سے ہمارے درمیان ناچاقیاں اور لڑائیاں شروع ہوئیں، اس کی طرف سے الگ گھر دینے کا مطالبہ شروع ہوا، اور پھر ابھی 13 نومبر 2019 کو وہ اپنے ماموں کے گھر میری اجازت کے بغیر جا کر بیٹھ گئی ، میں اسے منانے کے لیے گیا ،اور اسے کہا کہ تجھے ایک رہائش کی ترتیب بنا کر دونگا ، اپنے سالے کے گھر میں سے ایک کمرہ الگ کرکے اس کا الگ راستہ اور ایک کچن وغیرہ بنا کر اس میں رکھوں گا، اس پر اس نے کہا کہ میں پرائے گھر میں نہیں رہونگی ،بہر حال انہی باتوں پر ہماری لڑائی چلتی رہی، آخر میں نےتنگ آکر انتہائی غصہ میں کہہ دیا "کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں" یہ دو دفعہ دہرایا، اس وقت گھر کے ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے، یہ کہہ کر میں اٹھا، اور اس وجہ سے مجھ پر بہت ذہنی دباؤ آگیا، میں اٹھ کر بیٹھک کی طرف آگیا ، پیچھے سے بیوی مزید کچھ طعنے وغیرہ دینے لگی ،اس وقت میں بیٹھک میں پہنچ گیا تھا، جہاں میرے والد صاحب ، چچا، چچی لوگ بیٹھےہوئے تھے ، میں نے وہاں سے نکلتے وقت بھی بیوی کی طرف منہ کر کے تین دفعہ پھر بول دیا "کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں" چونکہ وہ کہہ رہی تھی کہ دو دفعہ طلاق دے چکے ہو ،مزید بھی دے دو، اور طعنہ بھی دے رہی تھی، اس لیے پھر مجھے غصہ آیا اور تین دفعہ بول دیا۔
میرا نفسیاتی علاج بھی چل رہا ہے، میرے اوپر تعویذ وغیرہ کے اثرات بھی ہیں، براہ کرم ان تمام باتوں کی روشنی میں مجھے شریعت مطہرہ کا حکم بیان فرمائیں،کہ کیا طلاق ہوگئی ہے ؟ اگر طلاق ہوگئی ہے تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟ تاکہ ہمارا گھر دوبارہ آباد ہو سکے۔
سائل کے بیان کے مطابق اگر اس نے یکے بعد دیگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی تھیں، تو اس سے اس کی بیوی پر درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزار کر دوسری جگہ عقد نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
و في صحيح مسلم: عن عروة، عن عائشة، قالت: جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك» اھ (2/ 1055)۔۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 355)۔
وفيها ايضاً : به إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473) واللہ اعلم بالصواب