محترم مفتی صاحب السلام علیکم! ہم آپ سے اپنے گھر کے سنگین معاملے میں آپ کی رہنمائی چاہتے ہیں، مہربانی فرما کر ہمیں اس الجھن سے نجات دلا دیجیے، میرا نام طلحہ اسرار ہے،میری والدہ ایک بینک آفیسر تھیں، اور والد کا مستقل روز گار کوئی نہیں تھا۔ میرے والد انتہائی سخت مزاج کے ہیں ،اور ہمارے گھر میں گالم گلوچ روز کا معمول ہے، اور کئی بار تو میری والدہ پر ہاتھ بھی اٹھایا، ہر جھگڑے کے بعد خاندان کے بڑے سمجھاتے، لیکن ہمارے والد کچھ عرصہ بعد اسی پرانی روش پر واپس آجاتے ، اور ہر جھگڑے میں والد کی طرف سے یہ دھمکی ہوتی کہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا، دوران جھگڑا ہر بات منوانے کے لیے طلاق کی دھمکی دیتے تھے، لیکن جب غصہ ختم ہو جاتا تھا تو اس بات کو بھول جاتے تھے۔
ایک بار کے جھگڑے میں والد نے 2 بار طلاق دیتے ہوئے تیسری باری میں پڑوسی نے باقاعدہ انہیں روکا ، دوبار کے الفاظ یہ تھے ’’کہ میں اسے طلاق دیتا ہوں ‘‘ یہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا۔
اس دفعہ ہم بھائیوں اور والد کے درمیان ایک مسئلے پر بات چیت کا آغاز ہوا، (گھر سے جوئے کے خاتمہ) جو کہ انتہائی سنجیدہ صورت حال اختیار کر گیا، اور والد نے کہا کہ میں تم سب کو چھوڑ دوں گا، لیکن یہ جُوا نہیں چھوڑیں گے ،اور ہم سب کو پھر سے نکالنے کا بھی کہا، اسی جھگڑے کے دوران میری والدہ جو کہ دل کی مریضہ ہیں، ان کی طبیعت خراب ہونے لگی تو" ہم بھائیوں نے والدہ کو ننھیال میں رات میں چھوڑ دیا اور اگلے دن خاندان کے بڑے جب میری والدہ کو گھر چھوڑ نے آئے ،تو انہوں نے پہلے تو گھر میں داخل ہونے سے روکا ،پھر طلاق کے حوالے سے مندرجہ ذیل الفاظ بولے جو کہ وڈیو میں محفوظ ہیں۔
۱: میں اس کو طلاق دے رہا ہوں (2۔ بار)
۲: میں اس کو طلاق دے دوں گا۔ (متعدد بار)
۳: یہ عورت مجھ پر حرام ہے۔
سائل کا بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کے والد کا حالیہ واقعہ سے قبل اپنی بیوی (سائل کی والدہ) کو جھگڑے کے دوران دوبار مذکور الفاظ طلاق" میں اسے طلاق دیتا ہوں" کہنے سے ان کی بیوی پر دو (2) طلاقِ رجعی واقع ہو گئی تھیں، جس کے بعد ان کا آپس میں میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنے سے رجوع بھی درست ہوا تھا، اور اب حال ہی میں سائل کے والد کا والدہ کے ننھیال سے گھر آنے پر ، مذکور الفاظ " میں اس کو طلاق دے رہا ہوں " کہنے سے تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ باقی دی گئی طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، نیز حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر (3/ 248)۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كن الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اهـ (2/ 10) والله اعلم بالصواب