کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ زید فیکٹری سے ماہانہ بنیاد پر مال لیتار ہتا ہے، اور قیمت تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کر تار ہتا ہے ، اس دوران وہ ایسا مال اٹھالیتا ہے، جو مارکیٹ میں بالکل بھی نہیں چلتا ،اور زید کے پاس وہ مال ویسے ہی رکھا ہواہے ، اب وہ فیکٹری مالکان سے بات کر کے وہ مال واپس کرتا ہے، جبکہ اس دوران اس مال کی قیمت کم ہو چکی ہوتی ہے ،تو اب فیکٹری مالکان کس قیمت پر وہ مال اس سے واپس لیں گے ؟ پرانی زیادہ قیمت پر یا نئی کم قیمت پر ؟ حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں۔ شکریہ!
خریدا ہوا مال اگر جوں کا توں خریدار کے پاس رکھا ہوا ہو، اس میں کسی قسم کا عیب نہ آیا ہو ،اور کمپنی مذکور سامان خریدار سے واپس لینے پر راضی ہو تو یہ صورت چونکہ اقالہ کی ہے، اس لیے کمپنی مالکان پر قیمت خرید ( ثمن اول) پر مال واپس کرنا لازم ہوگا۔
كما في الهداية شرح البداية: الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول لقوله عليه الصلاة والسلام من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرط مثل الثمن الأول والأصل أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق غيرها اهـ . و في الهامش : قوله ولأن العقد حقهما في جميع الأحوال منقولا كان المبيع أو غير منقول مقبوضاً أو غير مقبوض اه (3/ 54)۔
و في الفتاوى الهندية: في الإقالة قال أبو حنيفة رحمه الله تعالى هي فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق غيرهما إلا أن لا يمكن جعلها فسخا بأن ولدت المبيعة فيبطل كذا في الكافي باع جارية بألف درهم وتقايلا العقد فيها بألف درهم صحت الإقالة وإن تقايلا بألف وخمسمائة صحت الإقالة بألف ويلغو ذكر الخمسمائة وإن تقايلا بخمسمائة فإن كان المبيع قائما في يد المشتري على حاله لم يدخله عيب صحت الإقالة بالألف ويلغو ذكر الخمسمائة فيجب على البائع رد الألف على المشتري وإن دخله عيب تصح الإقالة بخمسمائة ويصير المحطوط بإزاء النقصان ولو كانت الإقالة بجنس آخر ذكر في عامة الكتب أنها تصح الإقالة عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى بالثمن الأول ويلغو ذكر جنس آخر اھ (3/ 156) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1