۱: ۱۴ جون کو لڑکے نے فون پر کہا کہ میں نے ایک طلاق دی ،اور دوسری طلاق بھی دی ، اس کے بعد لڑکی نے موبائل بند کر دیا، لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر تھی ، لڑکا اگلے دن بہت رویا ،اور منت سماعت کرنے لگا کہ لڑکی بھیج دوں، پھر دو گواہوں کے سامنے رجوع ہوا، اور لڑکی چلی گئی۔
۲:اب 23 جولائی کو لڑکی نے اپنی بہن اور بھائی کو بتایا کہ لڑکے نے فروری میں بھی ایک میسج میں لفظِ طلاق لکھ کر بھیجا تھا ، اور جون میں جب فون پر دو بار طلاق کہی ،اس سے پہلے بھی ایک میسج میں طلاق لکھ کر بھیجا تھا ، اس لئے لڑکی کو واپس گھر لے آئے ہیں، لڑکے سے پوچھا گیا تو اس کا کہنا ہے مجھے میسج کا کچھ یاد نہیں ، لڑکا بہت رو رہا ہے، کچھ کھا نہیں رہا، اس لیے جلدی مسئلہ کا حل بتائیں، کہ تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، یا صرف فون والی دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔
نوٹ: لڑکے نے پہلے اپنے چچا کی بیٹی کو بھی طلاق دی تھی، وہ لڑکی گھر سے بغیر بتائے چلی جاتی تھی، اس لئے طلاق دی تھی، اس لڑکی کا باپ جو لڑکے کا چچا ہے ، وہ کالا علم جادو وغیرہ کرتا ہے ، سب کو معلوم ہے کہ وہ کالا جادو کرتا ہے، اس نے کہا تھا کہ میں تیرا گھر بسنے نہیں دونگا ، کیا جادو کے ذریعہ طلاق دلوائی جاسکتی ہے، اگر دلوائی جا سکتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟اور ان کا کیسے پتہ چلے گا، دو عاملین سے جا کر پوچھا ہے، انہوں نے کہا کہ لڑکے پر جادو کا اثر ہے۔ برائے مہربانی جواب دیکر عنداللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور فون والی دو صریح طلاقوں سے پہلے یا بعد اگر واقعۃً لڑکے نے طلاق کا میسج کیا ہو ، اگرچہ اس کا بھیجنا لڑکے کو یاد نہ آرہا ہو، تب بھی اس سے شخص مذکور کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور غیر حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، جبکہ طلاق جادو کے ذریعہ ہوئی ہو ،یا کوئی اور سبب بنا ہو، یہ مخفی امر ہے، اور ظنّی بھی ، اس لئے اس کی وجہ سے وقوع طلاق متاثر نہیں ہوتی، اور چچا نے اگر واقعۃًا یسا کیا ہو تو وہ اپنے اس غلط طرز عمل کی وجہ سے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں، ان پر توبہ و استغفار لازم ہے ۔
ففي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. (3/ 248) واللہ اعلم بالصواب