کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میر انام ۔۔۔۔ ہے ، آپ سے گزارش یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔ کو اپنے گھریلو جھگڑے کے دوران تین طلاق دی ہیں، بروزِ اتوار 18 نومبر 2018 کو۔ہمارے تین بچے ہیں، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ، لہٰذا بچوں کی خاطر ہم دوبارہ اپناگھر بسانا چاہتے ہیں، قرآن و حدیث کی روشنی میں کوئی راستہ بتائیں کہ اس طریقہ سے ہم اکھٹے ہو سکتے ہیں؟
نوٹ: الفاظ طلاق یہ ہے " تم یہ چاہتی ہو کہ میں تمہیں تین طلاقیں دوں ؟ میں نے تمہیں ایک طلاق ، دو طلاق ،تین طلاق دی‘‘۔
صورت مسئولہ میں سائل کے مذکور الفاظ کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ سائل کی بیوی ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
جبکہ حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدت طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ بھی ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقیق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تا کہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كماقال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
و في صحيح مسلم: عن عروة، عن عائشة، قالت: جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك» اھ (2/ 1055)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 355)۔
وفيها ايضاً : به إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473) واللہ اعلم بالصواب