کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مزدور مالک دوکان کی اجازت کے بغیر گاہک کو سودا سستادے سکتا ہے یا نہیں؟ دوسراسوال یہ ہے کہ ایکسیڈنٹ میں اگر مقتول قصور وار ہو تو کیا قاتل پر کفارہ ہو گا کہ نہیں ؟/ بحوث فی قضا یافقہیہ میں عدم ضمان کا قول ہے ، جب ضمان نہ ہو تو کیا کفارہ بھی قاتل پر نہ ہو گا؟ جزاک اللہ خیراً!
واضح ہو کہ مزدور کی حیثیت شرعاً اجیر خاص کی ہے، اس لیے مالک کی طرف سے جتنی قیمت پر سامان فروخت کرنے کی صراحتاً یا دلالۃً اجازت ہو تو عام قیمت سے کچھ کمی بیشی کے ساتھ اس قیمت پر فروخت کرنے اجازت ہوگی، لیکن اگر اس سے بھی کم قیمت پر بیچے، جس سے مالک دوکان کا نقصان ہو تو وہ اس سے ضامن ہوگا۔
جی ہاں ! اگر ایکسیڈنٹ میں مقتول خود قصور وار ہو ،تو اس صورت میں قاتل پر کوئی چیز لازم نہیں، نہ کفارہ اور نہ ہی ضمان لازم ہے۔
كما في الدر المختار: فصل لا يعقد وكيل البيع والشراء والإجارة والصرف والسلم ونحوها (مع من ترد شهادته له) للتهمة وجوزاه بمثل القيمة (إلا من عبده ومكاتبه إلا إذا أطلق له الموكل) كبع ممن شئت (فيجوز بيعه لهم بمثل القيمة) اتفاقا (كما يجوز عقده معهم بأكثر من القيمة) اتفاقا: أي بيعه لا شراؤه بأكثر منها اتفاقا، كما لو باع بأقل منها بغبن فاحش لا يجوز اتفاقا، وكذا بيسير عنده (5/ 521)۔
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: إذا ساق إنسان سيارة في شارع عام ملتزما السرعة المقررة، ومتبعا خط السير حسب النظام، ومتبصرا في سوقه حسب قواعد المرور، فقفز رجل أمامه فجأة، فصدمته السيارة (الى قوله) ان الرجل الذي بحوث في قضايا فقهية معاصرة أن الرجل الذي قفز أمام السيارة إن قفز بقرب منها بحيث لا يمكن للسيارة في سيرها المعتاد في مثل ذلك المكان أن تتوقف بالفرملة، وكان قفزه فجأة لا يتوقع مسبقا لدى سائق متبصر محتاط، فإن هلاكه أو ضرره في مثل هذه الصورة لا ينسب إلى سائق السيارة، ولا يقال: إنه باشر الإتلاف، فلا يضمن السائق، ويصير القافز مسببا لهلاك نفسه، وذلك لوجوه: أولا: لو قلنا بضمان السائق في هذه الصورة، لزم منه أنه لو عزم رجل على قتل نفسه، فقفز أمام سيارة أو قطار بقصد إهلاك نفسه، فإن السائق يضمنه، وهذا مخالف للبداهة (ص: 316، 317) والله اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1