کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے پانچ سال پہلے طلاق دیدی تھی، جس کا مجھے علم نہیں تھا، لیکن اب وہ بول رہا ہے کہ طلاق ہوگئی ہے، تو بتائیے وہ جو نا جائز طریقے سے پانچ سال میرے ساتھ رہے ،اسلام میں شریعت میں اس کے اوپر کیا فتویٰ ہے ؟
نوٹ: پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ "اگر تم اپنے ماں پاب سے ملی تو طلاق ہو جائے گی " اور میں ان سے ملی تھی،دوسری مرتبہ انہوں نے خود طلاق دی، شوہر کہہ رہے ہیں کہ میں نے دوسری مرتبہ تمہیں طلاق دی تھی، مگر مجھے معلوم نہیں، تیسری مرتبہ کہا کہ "اگر پھر سے میرے اور تمھارے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا تو طلاق ہو جائے گی " اور پھر ہمارے درمیان لڑائی جھگڑا بھی ہوا ہے۔
نوٹ : سائلہ نے تنقیح میں یہ واضح کیا کہ سوال میں مذکور تینوں طلاقیں پانچ سال پہلے دی تھی، اور رجوع بھی ہو گیا تھا۔
سائلہ کے شوہر نے پہلی اور دوسری طلاق کے بعد زبانی یا عملا رجوع کر لیا تھا، تو پہلی دونوں طلاقوں کے بعد تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، جس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا نا جائز اور حرام ہوا ہے ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل تو بہ و استغفار کریں، اور فوراً علیحدگی اختیار کریں ، جبکہ سائلہ اب دوسری جگہ شادی کرنا چاہے، تو عدت گزارنے کے بعد ( جس کی ابتداء شوہر کی طرف سے تیسری طلاق کے اقرار کے وقت سے ہو گی ) کر سکتی ہے۔
ففى المحيط البرهاني في الفقه النعماني: وكذلك من طلق امرأته ثلاثاً ثم أقام معها زماناً، إن أقام منكراً طلاقها لا تنقضي عدتها، كذا حكي جواب المشايخ وجوباً لهما. وإن أقام مقرّاً بطلاقها انقضت عدتها. (إلی قوله) ومع العلم بالحرمة تستأنف العدة (3/ 464)۔
وفى الفتاوى الهندية: إذا أقر الرجل أنه طلق امرأته منذ كذا صدقته المرأة في الإسناد أو كذبته أو قالت لا أدري فالعدة من وقت الإقرار ولا يصدق في الإسناد هو المختار (1/ 532) والله اعلم بالصواب