کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری سات بہنیں ہیں ،جن میں چھ بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ، جبکہ ایک غیر شادی شدہ ہے ، اور اس کار شتہ ابھی ملنے والا ہے، لیکن جس لڑکے سے رشتہ طے ہو رہا ہے، اس کے بارے میں تقریباًدو سال پہلے میں نے یہ کہا تھا کہ اگر میں نے اپنی بہن کا رشتہ اس سے کرادیا،تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہو گی ، اب میرے والد صاحب اور دیگر بہنوں کی رضامندی سے اس جگہ رشتہ طے ہو رہا ہے ، تو اب اس مسئلہ کا شرعی حل کیا ہو گا کہ رشتہ بھی وہاں طے ہو جائے،اور میری بیوی کو طلاق بھی نہ ہو ؟ جبکہ مذکور جملہ کہ ’’اگر میں اپنی بہن ۔۔۔ الخ " صرف ایک مرتبہ ہی بولا تھا۔
سائل طلاق کی قسم اٹھانے کے بعد اگر اپنی بہن کا رشتہ مذکور لڑکے کے ساتھ اپنی مرضی و خوشی سے کروائے گا، تو معلق ایک طلاق واقع ہو جائے گی ، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے ، اگر عدت میں رجوع نہیں کیا، تو پھر دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باہمی رضا مندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ باہم عقد نکاح کرنا ہو گا، تاہم رجوع یا دوبارہ نکاح کے بعد سائل کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔ اگر سائل چاہتا ہو کہ بہن کا رشتہ بھی وہاں طے ہو جائے اور ایک طلاق رجعی بھی واقع نہ ہو تو سائل بہن کا رشتہ طے کرنے نہ کرنے سے مکمل طور پر لا تعلق رہے ، سائل کے گھر والے سائل کی بہن کا رشتہ طے کریں، چنانچہ جب سائل کی مرضی کے بغیر رشتہ طے ہو جائے گا تو شرط نہ پائی جانے سے کوئی طلاق بھی واقع نہ ہو گی ۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار):(قوله الأصل فيه إلخ)ذكر في الفتح أصلا أظهر من هذا وهو أن كل عقد ترجع حقوقه إلى المباشر، ويستغني الوكيل فيه عن نسبة العقد إلى الموكل لا يحنث الحالف على عدم فعله بمباشرة المأمور لوجوده من المأمور حقيقة وحكما، فلا يحنث بفعل غيره لذلك، وذلك كالبيع والشراء والإيجار والاستئجار والصلح عن مال، والمقاسمة وكذا الفعل الذي يستناب فيه ويحتاج للوكيل إلى نسبته للموكل كالمخاصمة فإن الوكيل يقول أدعي لموكلي، وكذا الفعل الذي يقتصر أصل الفائدة فيه على محله كضرب الولد فلا يحنث في شيء من هذه بفعل المأمور اھ (3/ 812) والله اعلم بالصواب