کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ ہمارا ٹرانسپورٹ کا کام ہے، جس میں ہمیں ٹرکوں اور ٹریلر وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے، تو ہم ٹرک / ٹریلر قسطوں پر لیتے ہیں، جس بندے سے گاڑی خریدتے ہیں ، وہ ہم سے ۶۰ فیصد سے لے کر ۹۰ فیصد تک منافع کماتا ہے، مقررہ وقت پر اگر رقم نہیں پہنچایا ،تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوتا، ( نہ ہم پر کوئی فالتوں جرمانہ وغیرہ لگاتا ہے، اور نہ مطالبہ کرتا ہے) تو براہ کرم اس مسئلہ میں راہ نمائی فرمائیں۔
(2): ابھی میں نے کام بڑھانے کا سوچا ہے، یعنی میں چاہتا ہوں کہ کسی اسلامی بینک سے گاڑیاں لوں، کیونکہ اسلامی بینک کا منافع
تو مجھے درج ذیل سوالوں کا جواب چاہیے: (۱) جو قسطوں پر گاڑیاں پہلے سے خرید رہا ہوں۔ (۲) اسلامی بینک سے گاڑی لے سکتا ہوں یا نہیں؟
ٹرک اور ٹریلر وغیرہ کی قسطوں پر خرید وفروخت درج ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے جائز ودرست ہے۔
۱: مجلسِ عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا۔ (۲) ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے۔ (۳) کسی قسط کی تاخیر یا شارٹ ہونے پر کوئی جرمانہ بھی مقرر نہ ہو۔ (۴) کل قسطوں کی تعداد بھی طے کر لیا جائے۔
۲۔ ہماری معلومات کے مطابق اسلامی بینکوں کے اکثر و بیشتر معاملات ،شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں لہٰذا ان اسلامی بینکوں سے گاڑی خریداری کے لئے معاملات کرنے کی گنجائش ہے ۔
کمافي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12)۔
و في الدر المختار: وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها. (6/ 462)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462) والله اعلم بالصواب
وفي الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع اھ (4/ 531)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1