۱: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ بد تمیزی کرے، بد زبانی کرے، اپنی ہر جائز و نا جائز خواہش کو پورا کرانے کے لئے شوہر سے زبان درازی کرے، اپنی مرضی ،شوہر کے اوپر مسلط کرے، یہاں تک کہ شوہر کی شرافت کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شوہر کے اوپر ہاتھ بھی اٹھا دے ، اور شوہر کو مار دیتی ہو صرف اس لئے کہ شوہر میری مرضی کے مطابق چلے ، بیوی کی فرمان برداری کرے ، لہذا میں مفتی صاحب سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی قانون کے مطابق بیوی کا رویہ صحیح اور درست ہے ؟ کیا اسلام و دین شریعت میں بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوہر پر ہاتھ اٹھائے، بد تمیزی کرے، بد اخلاقی اور زبان درازی کرے، اپنی مرضی شوہر پر چلائے، اسلامی قانون شریعت میں جو بھی حکم ہو واضح طور پر صادر فرمائیں۔
2: کوئی بھی شادی شدہ آدمی اپنی بیوی سے تنگ ہو ، اس کی ایک ایک حرکت سے عاجز ہو، بیوی کی بد تمیزی ، زبان درازی نافرمانی سے دلبر داشتہ ہو ، بار بار بیوی کو سمجھائے، پھر بھی بیوی باز نہیں آتی ہو، شوہر کی نافرمانی کرتی رہے ، یہاں تک کہ شوہر بیوی سے علیحدہ سونے لگے، پھر بھی بیوی باز نہ آئے ، بد اخلاقی کرے، زبان درازی کرے تو شوہر کی برداشت کے باہر ہو جائے، پھر شوہر غصے میں بیوی کو ایک دو ہاتھ مار دے تو کیا شوہر کو یہ حق حاصل ہے یا نہیں ؟ شریعت کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ واضح جواب سے نوازیں۔
سوال میں درج بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی پر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا ہو تو مذکور خاتون کا رویہ اپنے شوہر کے ساتھ انتہائی غلط اور نامناسب ہونے کے ساتھ شرعاً نا جائز ہے ، شوہر کے ساتھ اس طرح سلوک کی وجہ سے بیوی سخت گناہ گار ہوئی ہے ، ایسی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے مذکور رویہ سے توبہ کر کے شوہر سے بھی دست بستہ معانی مانگے ، اور اپنے آباد گھر کو خراب کرنے کی کوشش نہ کرے، جب بیوی اپنے رویہ سے باز آکر شوہر سے معافی مانگ لے ،تو شوہر کو بھی معاف کردینا چاہیے ، اگر شوہر سمجھے کہ معمولی سزا کے بغیر عورت نہیں سدھرے گی ،تو ایسی صورت میں شوہر کو ایسی مار مارنے کی بھی اجازت ہے ، جس سے کھال نہ پٹھے ، نیل نہ پڑیں، اور تین ضربوں سے زیادہ بھی نہ ہوں، تاہم ممکنہ تمام کوششوں کے باوجود اگر اصلاح ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے کر علیحدہ بھی کر سکتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہو گا۔
کما في تفسير ابن كثير: يقول تعالى: الرجال قوامون على النساء أي الرجل قيم على المرأة، أي هو رئيسها وكبيرها والحاكم عليها ومؤدبها إذا اعوجت اھ (2/ 256)۔
و في تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: و في شرح المختار أنه يجوز أن يضربها على ترك الزينة وعدا مثل ما ذكر هنا ولم يذكرا فيه ترك الصلاة وعللا لجواز الضرب بأنه يجب عليها طاعته وطاعة الله تعالى فتعزر على المخالفة اھ (3/ 211)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: فينبغي أن يؤدبها لا أن يؤدب نفسه بامتناعه عن المضاجعة في حال حاجته إليها، فإذا هجرها، فإن تركت النشوز، وإلا ضربها عند ذلك ضربا غير مبرح، ولا شائن، والأصل فيه قوله عز وجل {واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن} [النساء: 34] (2/ 334)۔
و في الدر المختار: (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر اھ (3/ 227) والله اعلم بالصواب