محترم دارالافتاء کے علماء کرام! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میں ایک نازک اور حساس خاندانی مسئلے میں شرعی رہنمائی کا طلبگار ہوں، گزارش ہے کہ میرے مسئلے کو مکمل توجہ سے پڑھ کر قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ عنایت فرمائیں گے ۔ نکاح کی کیفیت:میرا نکاح ..........سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں مکمل رضامندی کے ساتھ ہوا،ابھی تک نہ رخصتی ہوئی، نہ خلوتِ صحیحہ (ایسی تنہائی جس میں تعلق ممکن ہو)اور نہ کوئی جسمانی تعلق قائم ہوا،شروع میں ہماری بات چیت اچھی رہی، مگر بعد میں اُس کی والدہ اور بھائی کی مداخلت اور غیر ضروری دباؤ نے تعلقات کو بگاڑ دیا۔
دھمکی اور دباؤ کا واقعہ:مورخہ 29 ستمبر 2024 کو جب میں اپنی بیوی کی والدہ کے گھر موجود تھا، اُس کا بھائی اور اُس کا ایک بدنام دوست وہاں آئے،انہوں نے میرے ساتھ بدکلامی کی، مجھے دھمکایا اور میرے سامنے چھ (6) فائر کیے، کچھ ہوائی، کچھ دیوار پر،پھر انہوں نے مجھے کہاکہ "ابھی اور اسی وقت میری بہن کو طلاق دو، ورنہ گولی مار دیں گے"میں اس وقت شدید خوف، دباؤ اور جذباتی کیفیت میں تھا، اور بغیر کسی ارادے یا نیت کے میں نے زبانی طور پر کہا ،میں طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ ، طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ ، طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ "مگر میں نے بیوی کا نام نہیں لیا، اور نہ "تجھے" یا کوئی واضح خطاب استعمال کیا۔
اہم نکات: طلاق صرف زبانی طور پر دی گئی ،کوئی تحریری طلاق نامہ نہیں تھا، بیوی سے کوئی رخصتی اور خلوت یا جسمانی تعلق نہیں ہوا، میں نے ہر بار طلاق کے ساتھ "ان شاءاللہ" کہا ، الفاظ میں بیوی کا نام یا واضح خطاب ("تجھے") شامل نہیں تھا، بعد میں بیوی نے کہا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ آپ پر دباؤ تھا، تو میں کبھی ایسی بات نہ سنتی ،مجھ سے زیادتی ہوئی"
میرے سوالات(1): کیا ایسی حالت میں جہاں دھمکی خوف اور غصے میں طلاق دی گئی ہو، اور الفاظ میں بیوی کا نام یا واضح خطاب نہ ہو تو کیا طلاق واقع ہوتی ہے؟
(2): کیا بغیر رخصتی اور تعلق کے دی گئی طلاق شرعی طور پر نافذ ہوتی ہے؟
(3): کیا ہمارا نکاح اب بھی قائم ہے؟
(4): اگر بیوی واپس آنا چاہے، تو کیا رجوع ممکن ہے؟ اور اس کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
میری دلی کیفیت:میں سچے دل سے چاہتا ہوں کہ میرا گھر دوبارہ شرعی بنیاد پر بسے، اور ہم دونوں محبت سے زندگی گزاریں،میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ خلوص نیت سے معاملہ کیا ہے،اُس رات میرے دل میں طلاق کا کوئی ارادہ نہ تھا ،یہ الفاظ محض خوف اور دباؤ میں نکلے۔
درخواست:علماء کرام! آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو مکمل توجہ سے دیکھ کرمجھے قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کے مطابق واضح اور مستند شرعی فتویٰ عطا فرمائیں،تاکہ میں درست، جائز اور پرامن فیصلہ کر سکوں۔
نوٹ: سائل کا میسج دارالافتاء کے واٹسپ پر بھی موجود ہے۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پر کہ سائل نےمؤرخہ 29 ستمبر 2024 کو سالے اور اس کے دوست کے دباؤ میں آکر مذکور الفاظ " میں طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ ، طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ ، طلاق دیتا ہوں ان شاء اللہ " بولے ہوں(جیسا کہ سوال سے بھی واضح ہو رہا ہے) توایسی صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے ،لہذا دونوں باہم میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔
کما فی الفتاوى الهندية: الفصل الرابع في الاستثناء إذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله - تعالى - متصلا به لم يقع الطلاق(1/454)۔
و فی فتح القدير للكمال ابن الهمام: (قوله وإذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله إلخ) وكذا إذا قال: إن لم يشأ الله أو ما شاء الله أو فيما شاء الله أو إلا أن يشاء الله أو إن شاء الجن أو الحائط وكل من لم يوقف له على مشيئة لم يقع إذا كان متصلا فلا يفتقر إلى النية، حتى لو جرى على لسانه من غير قصد لا يقع اھ(4/136)۔
و فی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (قوله فإنه تطليق إلخ) اعلم أن التعليق بمشيئة الله تعالى إبطال عندهما: أي رفع لحكم الإيجاب السابق وعند أبي يوسف تعليق، ولهذا شرط كونه متصلا كسائر الشروط ولهما أنه لا طريق للوصول إلى معرفة مشيئته تعالى فكان إبطالا بخلاف بقية الشروط وعلى كل لا يقع الطلاق في مثل أنت طالق إن شاء الله تعالى، نعم تظهر ثمرة الخلاف في مواضع منها ما إذا قدم الشرط ولم يأت بالفاء في الجواب، كإن شاء الله أنت طالق، فعندهما لا يقع لأنه إبطال فلا يختلف وعنده يقع لأن التعليق لا يصح بدون الفاء في موضع وجوبها (371/3)۔