کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں اور میری بیوی میں 22/12/2019ء کو رات کو 11 بجے جھگڑا ہوا ،اور جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو غصے میں دو (2) مرتبہ طلاق دی، جبکہ میری بیوی کا بیان یہ ہے کہ میں نے صرف ایک مرتبہ طلاق کا لفظ سنا ہے۔
میرے بھائی کا بیان یہ ہے کہ ہم اوپر رہتے ہیں، جھگڑے کی آواز سن کر نیچے آئے ،اور ان لوگوں کو منع کیا، لیکن ہمارے منع کرنے کے باوجود بھی غصے میں طلاق دی، ہمارے سامنے تین بار طلاق کا لفظ استعمال کیا، اور ایک ہی سانس میں تین بار طلاق دی۔
نوٹ : موقع پر موجود بھا بھی (پروین راشد) نے بھی یہی سنا کہ اس نے تین مرتبہ کہا ” طلاق ہے ، طلاق ہے ، طلاق ہے “ اب آپ حضرات قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیر فی الدارین!
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اور غلط بیانی کر کے اپنے حق میں فتویٰ لینے سے کوئی حرام چیز حلال نہیں ہوتی ، بلکہ وہ معاملہ بدستور حرام ہی رہتا ہے اور غلط بیانی کا وبال بھی اس پر عائد ہوتا ہے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق ایک طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر دو (2) طلاقوں کا اقرار کرتا ہے، جس سے دو طلاقیں تو یقینی واقع ہو گئی ہیں، جبکہ موقع کے گواہان بھائی اور اس کی بھابھی تین طلاقوں کی گواہی دے رہے ہیں، ان دو افراد کی تین طلاق کے متعلق گواہی نصاب شہادت کو نہ پہنچنے کی وجہ سے قضاءً تو تین طلاقیں واقع نہیں ہوئیں، تاہم یہ گواہان اگر اپنے بیان میں سچے ہوں اور اپنے بیان پر حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں، زوجین سے ان کی کوئی ذاتی دشمنی وغیرہ بھی نہ ہو اوربیوی کو ان گواہوں کی بات پر اعتماد بھی ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے آپ کو’’ مطلَّقہ ثلاثہ ‘‘ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے ، ورنہ دونوں گناہگار ہوں گے، لیکن اگر شوہر چھوڑنا نہ چاہتا ہو تو ایسی صورت میں شوہر کو کسی طرح طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کر کے اس سے علیحدگی اختیار کرلے اور اس صورت میں عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
ففى الفتاوى الهندية: امرأة غاب زوجها فأتاها مسلم غير ثقة بكتاب الطلاق من زوجها ولا تدري أنه كتابه أم لا إلا أن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس أن تعتد ثم تتزوج كذا في محيط السرخسي إذا غاب الرجل عن امرأته فأتاها مسلم عدل فأخبرها أن زوجها طلقها ثلاثا أو مات عنها فلها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر وإن كان المخبر فاسقا تتحرى (إلی قوله) وإذا شهد عدلان للمرأة أن زوجها طلقها ثلاثا وهو يجحد ثم غابا أو ماتا قبل الشهادة عند القاضي لم يسع المرأة أن تقيم معه وأن تدعه أن يقربها ولا يسعها أن تتزوج كذا في محيط السرخسي وإذا شهد شاهدان عند المرأة بالطلاق فإن كان الزوج غائبا وسعها أن تعتد وتتزوج بزوج آخر وإن كان حاضرا ليس لها ذلك ولكن ليس لها أن تمكن من زوجهاھ (5/ 312، 313)۔