طلاق

"میں نے ان شاء اللہ اسے طلاق دی "کہنے سے طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
84947
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام طلاق / طلاق

"میں نے ان شاء اللہ اسے طلاق دی "کہنے سے طلاق کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ ........، کا نکاح، فروری سن 2007 ء میں مسماۃ ’.......سے بمطابق شرح محمدی انجام پایا، مسماۃ کے بطن سے میری تین بیٹیاں اور ایک ڈھائی سال کا بیٹاہے، شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہمارے مابین ناچاقی کا سلسلہ شروع ہو گیا، کیونکہ میری بیوی رات بھر جاگتے اور دن بھر سوتے رہنے کی وجہ سے بچوں کو وقت نہیں دے پاتی، جس پر میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا تو اس کے جواباً تکرار کرنے پر نوبت تلخ کلامی تک پہنچ جاتی، جس پر میری بیوی گھر اور بچوں کو چھوڑ کر کئی بار گھر میکہ چلی جایا کرتی تھی ، اس کے گھر والے اسے درست رویہ اپنانے اور صبر کی تلقین کے بجائے اسے میرے (شوہر) کے خلاف مزید بھڑکاتے رہتے، ماضی میں کئی بار میں اہلیہ کو صلح صفائی کے ذریعے گھر لے آیا کرتا تھا تا کہ ہمارا گھر نہ اجڑے، لیکن حالیہ دنوں، ماہ اپریل کو ، کسی کام کے سلسلہ میں شہر سے باہر میرا جانا ہوا، گھر واپسی پر معلوم ہوا کہ بیوی بناء کسی کو بتائے بچے کو لے کر ، اور بچیوں کو چھوڑ کر میکہ دوبارہ چلی گئی، یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ مجھ پر بہت گراں گزرا، جس پر میں نے تینوں بچیاں بھی ان کے ہاں بھیج دیں، تو وہ رات ساڑھے بارہ بجے 12:30 ، چاروں بچے میرے گھر کے باہر چھوڑ کر چلے گئے، اس واقعہ نے مجھے مزید غم زدہ کر دیا، جس کے بعد ہماری بارہا کوششوں کے باوجود میری بیوی نے گھر آنے اور بچوں کو لینے سے انکار کر دیا، پھر جون کے مہینے میں اپنے والدین وغیرہ کے ساتھ پاکستان ٹور پر گھومنے پھرنے چلی گئی ، اس پر مجھے غصہ آیا، اور میں نے ایک مفتی صاحب سے بیوی کے اس رویہ پر مشورہ کیا، تو انہوں نے مجھے صبر و تحمل کی تلقین کی، لیکن میرے نہ ماننے پر انہوں نے مجھے تنبیہ کے طور پر بیوی کو ان شاء اللہ کے ساتھ ایک طلاق دینے کو کہا، میں نے اہلیہ کے نمبر پر کال کی، پر کال ان کے بھائی نے اٹھائی، تو میں نے بطورِ تنبیہ ان سے کہا کہ "..... کو بتادیجئے گا، میں نے ان شاء اللہ اسے ایک طلاق دی ، باقی انتظار کرے " بعد اس کے اہلیہ اور ان کے گھر والوں نے مفتی صاحب سے رجوع کیا، تو مفتی صاحب نے مذکور الفاظ سے عدم وقوع طلاق کا انہیں بتایا، ساتھ اہلیہ کو گھر بھیجنے کی تلقین کی ، اس کے باوجود چھ مہینے بعد ، انہوں نے بروز پیر سات (7) اکتوبر 2019ھ کو عدالت میں میرے خلاف بعنوان " حبس بے جا" کا مقدمہ دائر کیا، اور صرف بیٹے کو ان کی کسٹڈی میں دینے کی اپیل کی، مجھ پر مار پیٹ کرنے ، بچوں کو چھیننے اور وقوعِ طلاق جیسے جھوٹے الزامات کے ذریعے ، عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے بیٹے ابراہیم کو ان کے حوالے کر دیا، لہذا مذکور صور تحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ، درجِ ذیل سوالات کے جوابات قرآن، حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں:
1 :بیوی اور ان کے گھر والوں کا مذکور رویہ اپنا نا شرعاً کیسا ہے ؟
2: سوال میں ذکر کردہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
3: جھوٹے الزامات کے ذریعے صرف بیٹے کو بزورِ عدالت اپنے قبضہ میں لینے کا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱ ، ۳): سائل کا بیان اگر واقعتا درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو، تو سائل کی بیوی اور ان کے گھر والوں کا مذکور رویہ انتہائی نامناسب اور غلط ہونے کے ساتھ شرعاً شوہر اور بچوں کی حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہے ہیں، لہذا ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور ناجائز اور غلط طرزِ عمل سے احتراز کریں، خصوصاً سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ ذاتی رنجشوں کو بھلا کر شوہر اور بچوں کے جائز حقوق ادا کرنے کی اور گھر آباد کرنے کی فکر کرے، اور خود سائل کو بھی چاہیئے کہ اگر سائل کی طرف سے کوئی کو تاہی ہو رہی ہو ، تو اس کو ختم کر کے بیوی سے معاملہ درست کرے اور بیوی کے حقوق کو بجالانے کی بھی پوری فکر کرے ، سائل کی اہلیہ کا ناراض ہو کر میکہ میں بیٹھنا، اور شوہر پر جھوٹے الزامات کا سہارا لے کر بزورِ عدالت ، بچے کو اپنی تحویل میں لینا بھی شرعاً درست نہیں، بلکہ فریقین کو چاہیئے کہ ، خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر صلح صفائی کے ساتھ معاملہ حل کر کے گھر بسانے کی کوشش کریں۔
(2): سوال میں ذکر کردہ الفاظ طلاق سے ، سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اور زوجین کا نکاح بدستور برقرار ہے ، اس لئے وہ حسبِ سابق باہم میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار : (قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا) الا لتنفس أو سعال (الى قوله) (لا يقع) للشك اھ (3/ 366)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: ومن الطاعة: القرار في البيت متى قبضت معجل مهرها وهو تفرغها لشؤون الزوجية والبيت ورعاية الأولاد في الصغر والكبر، فليس للزوجة الخروج من المنزل ولو إلى الحج إلا بإذن زوجها اھ (9/ 6851)۔
وفيه ايضاً : مكان الحضانة: هو مكان الزوجين إذا كانت الزوجية بينهما قائمة. وللفقهاء آراء متقاربة في تحديد مواطن الحضانة وما يترتب عليه. أما الحنفية ففصلوا القول كما يأتي: أـ إذا كانت الأم هي الحاضنة في حال قيام الزوجية، أو أثناء العدة من طلاق أو وفاة، فمكان الحضانة: هو المكان الذي تقيم فيه مع الزوج، ولا يجوز لها الانتقال به إلا بإذن الزوج؛ لأن الزوجة ملزمة بمتابعة زوجها والإقامة معه حيث يقيم اھ (10/ 7317)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84947کی تصدیق کریں
0     407
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات