کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ میں نے غصہ کی حالت میں تین بار اپنی بیوی کو یہ جملہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہا ہے ، اپنی بیوی کو مذکور جملہ کہنے کی شرعا ًکیا حیثیت ہے ؟ اور وقوع طلاق کی صورت میں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟
سائل کے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "تین بار کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في صحيح البخاري: حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول» (7/ 43)
و في التاتارخانية: واما البدعى فنوعان (إلى قوله) فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثاً في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمات متفرقة . (إلى قوله) و في الهداية فاذا فعل ذلك وقع الطلاق و كان عاصياً اھ (۳/ ۲۴۶)
و فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى، (إلی قوله) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (3/ 233)
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھ (2/ 10) والله اعلم بالصواب