کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے چند مہینےپہلے ایک لڑکی بنام ۔۔۔۔سے کورٹ میرج کیا تھا، اس بات کا علم نہ میرے گھر والوں کو تھااور نہ ان کے گھر والوں کو، تقریباً چھ ماہ بعد ان کے گھر والوں اور ہمارے گھر والوں کو نکاح کا علم ہوا، ان کے گھر والوں نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ بھی کیا، لیکن میں کسی طرح راضی نہیں ہوا، آخر کار انہوں نے ایک جرگہ بٹھایا، جس میں مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا، میں نے وہاں بھی انکار کیا، جب مجھے زیادہ مجبور کیا گیاتو میں نے بغیر نیت اور لاعلمی میں یہ کہہ دیا "صباح میں تمہیں طلاق ، دیتا ہوں طلاق طلاق " اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ طلاق ہو گئی یا نہیں؟ براہ کرم شریعت کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں۔
نوٹ: ہم دونوں کے درمیان ملاپ یعنی جماع ہو چکا ہے۔
مزید وضاحت: لڑکی کا تعلق اٹک سے ہے، وہ لوگ یعنی ان کے والد ویلڈ نگ کا کام کرتا ہے اور میرا تعلق پشاور سے ، ہمارا نیٹ وغیرہ کا کاروبار ہے، مہر ایک لاکھ روپیہ مقرر کیا تھا، لڑکی کے والدین اس رشتہ پر راضی بھی نہیں تھے ۔
سائل اور مذکور لڑکی نے اپنے اولیاء کے علم میں لائے بغیر جو چھپ کر کورٹ میرج کیا ہے ، اگر یہ نکاح کفؤ میں اور مہر مثل پر ہوا ہو ،تو ایسی صورت میں اگر چہ یہ نکاح منعقد تو ہو چکا تھا، مگر اس کے بعد جب سائل نے لڑکی کے خاندان والوں کے اصرار پر طلاق کے یہ صریح الفاظ کہہ دیئے کہ " صباح ! میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق‘‘ تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ صریح الفاظ طلاق میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا اور مسئلہ سے ناواقفیت کا عذر معتبر نہیں ، اس لئے دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في صحيح البخاري: حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول» (7/ 43)
و في الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/ 473)
و في الدر المختار: [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين. (3/ 293)
وفيه ايضا: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (إلى قوله) (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، (إلى قوله) بلا فرق بين عالم وجاهل اھ (3/ 249، 247)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية اھ (3/ 247) واللہ اعلم بالصواب