کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔ کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ جبکہ سسرال والے کہتے ہیں کہ تین مہینے سے پہلے کفارہ دیدو اور رجوع کر لو، کیا یہ درست ہے؟ میرے ایک بچی ہے جس کی عمر تیرہ سال ہے، اس کی پرورش کی ذمہ داری اور خرچہ اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے ؟ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ قرآن و سنت کے واضح نصوص باجماعِ صحابہ اور تابعین ؓ اور چاروں ائمہؒ کے مذہب کے مطابق تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں ایک ساتھ دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں دی جائیں ، اس سے تین طلاقیں ہی واقع ہو جاتی ہیں ، لہذا مسئولہ صورت میں سائل نے اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔۔۔ کو تین بار صریح میں مذکور جملہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“کہہ دیا ہو تو اس جملہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ہے ، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دونوں کا باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا اس کے بعد سائل کے سسرال والوں کا یہ کہنا کہ تین مہینے نے سے پہلے کفارہ دیدو اور رجوع کر لو شرعاً درست نہیں، اس لئے میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایّامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہے۔
مذکورہ صورت میں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے بعد سائل کو اپنی بچی کی کفالت کا شرعی حق حاصل ہے ، تاہم بہتر یہ ہے کہ والدین بچی کی بہتر مستقبل کے خاطر اتفاقِ رائے سے اس کی پرورش کی ذمہ داری کا فیصلہ کریں ۔
كما قال الله تعالى فی تنزیلہ العزیز: الطَّلَاقُ مَرَّتَان فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ، ( إلی قولہ تعالیٰ ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه، (سورۃ: البقرۃ، الآیۃ: 229-230 )-
وفی الجامع لأحکام القرآن ( تفسیر القرطبیؒ ): والمعنى الآخر أن يطلقها ثالثة فيسرحها، هذا قول مجاهد وعطاء وغيرهما، وهو أصح لوجوه ثلاثة؛ أحدها: ما رواه الدارقطنی عن أنس أن رجلا قال: يا رسول الله، قال الله تعالى:"الطلاق مرتان" فلم صار ثلاثا؟ قال:" فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان، فی رواية هی الثالثة"، ذكره ابن المنذرؒ، (إلی قولہ ) قال أبو عمر: وأجمع العلماء على أن قوله تعالى:"أو تسريح بإحسان" هی الطلقة الثالثة بعد الطلقتين، وإياها عنى بقوله تعالى:" فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره". وأجمعوا على أن من طلق امرأته طلقة أو طلقتين فله مراجعتها، فإن طلقها الثالثة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره، وكان هذا من محكم القرآن الذی لم يختلف فی تأويله، الخ ( ج 3، ص 127، ط: دار الکتب المصریۃ القاھرۃ)-
وفی صحیح البخاریؒ: عن عائشة: أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبی ﷺ أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول، الخ ( کتاب الطلاق، باب: من أجاز طلاق الثلاث، ج 3، ص 2391، المرقّم: 5261، ط: البشریٰ )-
وفی الھندیۃ: ( و أما البدعی ) فنوعان بدعی لمعنى يعود إلى العدد، و بدع لمعنى يعود إلى الوقت ( فالذی ) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا فی طهر واحد بکلمۃ واحدۃ أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين فی طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق و كان عاصيا، الخ (كتاب الطلاق، الباب الأول فی تفسير الطلاق و ركنه و شرطه و حكمه و وصفه و تقسيمه، الطلاق البدعی، ج 1، ص 349، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
و فیھا ایضاً: و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة و ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا فی الهداية، الخ ( كتاب الطلاق، الباب السادس: فی الرجعة و فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة و ما يتصل به، ج 1، ص 473، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی فتح القدیر: تحت (قوله: وعن محمدؒ أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة) وهی رواية هشام عنه، وفی غياث المفتی الاعتماد على رواية هشام عن محمد لفساد الزمان، وعن أبی يوسفؒ مثله، واختلف فی حد الشهوة ليبنى عليها أخذ الأب وثبوت حرمة المصاهرة، قالوا: بنت تسع مشتهاة، الخ (کتاب الطلاق، باب: الولد من أحق به، ج 4، ص 371-372، ط: دار الفکر، بیروت)-