السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ! میں ایک اہم مسئلہ معلوم کرنا چاہتی ہوں،میرے شوہر نے ایک دن مجھ سے ناراض ہو کر قرآن پاک پر حلف لے کر کہا”اگر میں تم سے دوبارہ لڑوں یا میری کسی بات سے تمہیں دلی تکلیف (hurt) ہو، تو میں تمہیں اسی وقت طلاق دے دوں گا“ اب اس کے بعد انہوں نے دوبارہ مجھ سے لڑائی کی ہے ،اور میری دل آزاری بھی ہوئی، لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے تمہیں طلاق نہیں دی، اور نہ ہی طلاق دوں گا،میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اس حلف اور الفاظ کے بعد موجودہ لڑائی ہونے پر طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے قرآن پر ہاتھ رکھ جو الفاظ ” اگر میں تم سے دوبارہ لڑوں یا میری کسی بات سے تمہیں تکلیف Hurtہوئی تو میں تمہیں اسی وقت طلاق دے دوں گا “ کہہ دیے ہیں یہ الفاظ چونکہ مستقبل میں طلاق دینے کے عزم و ارادے کے اظہار کے ہیں ، اس لیے ان الفاظ کے کہنے سے تعلیق طلاق منعقد نہیں ہوئی ،چنانچہ سائلہ کے شوہر کادوبارہ اس کے ساتھ لڑائی اور اس کی دل آزاری کرنے کی وجہ سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی، اس لیے سائلہ کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،البتہ آئندہ کے لیے طلاق کے الفاظ کہنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے، جبکہ سائلہ کے شوہر نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر اگر حلف اٹھایا ہو کہ سائلہ کو مارنے یا تکلیف دینے کے بعد اسے طلاق دے گا ،اور اس کی نیت مارنے یا تکلیف دینے کے فوری بعد طلاق دینے کی ہو ،تو طلاق نہ دینے کی وجہ سے سائلہ کا شوہر اپنی قسم میں حانث ہو چکا ہے ،جسکی وجہ سے اس کے ذمہ قسم کا کفارہ دینا لازم ہو گا ،اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا ،یا متوسط درجہ کا کپڑا پہنانا ،اگر ان دونوں کی وسعت اور قدرت نہ ہو تو پھر تین دن مسلسل روزے رکھنا ہو گا ۔
کما فی الدر المختار: (وکفارتہ)(تحریررقبۃ أو إطعام عشرۃ مساکین) (او کسوتھم بما)یصلح للاو ساط وینتفع بہ فوق ثلاثۃ اشھر، و (یستر عامۃالبدن) فلم یجز السراویل الا باعتبار قیمۃ الاطعام (ولو ادی الکل) جملۃ او مرتبا ولم ینو الا بعد تما مھا للزوم النیۃ لصحۃ التکفیر (وقع عنھا واحد ھو اعلا ھا قیمۃ، ولو ترک الکل عوقب بواحد ہو ادنا ھا قیمۃ)لسقوط الفرض بالادنی (وان عجز عنھا)کلھا (وقت الاداء) عندنا(إلی قولہ) (صام ثلاثۃ ایام ولاء)ویبطل بالحیض،بخلاف کفارۃ الفطر۔ وجوز الشافعی التفریق ،واعتبر العجز عند الحنث مسکین (والشرط استمرار العجز الی الفراغ من الصوم،فلو صام المعسر یومین ثم)قبل فراغہ ولو بساعۃ (ایسر) ولو بموت مو رثہ موسرا (لا یجور لہ الصوم)ویستأنف بالمال خانیۃ،الخ (کتاب الأیمان ج:3،ص:725،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: و إذا أضافہ إلی الشرط وقع عقیب الشرط إتفاقا مثل أن یقول لإمرأتہ إن دخلت الدار فأنت طالق الخ ( کتاب الطلاق الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق ج: 1، ص: 420، ط: ماجدیۃ)۔
و فی تنقیح الفتاوی للحامدیۃ: صیغہ المضارع لا یقع بھا الطلاق إلا إذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال بن الھمام الخ (کتاب الطلاق ج: 1، ص: 38، ط: دار المعرفۃ )۔