کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے جڑواں بچے ( ایک بچہ اور دو بچیاں) پیدا ہوئے، پہلے سے بھی ایک بچہ تھا، اس لئے میرے لئے سنبھالنا مشکل تھا، تو میں نے جڑواں بچوں میں سے ایک بچہ اپنے میکے میں بھیج دیا ،اور والدین کے حوالہ کیا تا کہ وہ پالیں اور سنبھالیں، اس پر میرے سسرال والوں نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا، لیکن چونکہ پرورش کا بوجھ تو میرے کندھے پر تھا، اس لئے ان کی ناراضگی کے باوجود میں نے بچہ میکے بھیج دیا، چنانچہ پانچ چھ ماہ بچہ میری ماں کے ساتھ کراچی میں رہا، اور ابھی نومبر کے ابتدائی ایام میں میرے ماموں کا انتقال یہاں میر پور خاص میں ہوا تو میری والدہ بچے کو لے کر اپنے بھائی کی فوتگی میں آئی، بچہ وہ اس لئے لائی تھی،تاکہ اپنے والدین سے ملاقات ہو جائے، اور پھر واپسی پر اپنے ساتھ انہوں نے لے کر جانا تھا، لیکن میں یہ سمجھی کہ بچہ کو وہ مستقل چھوڑنے کے لئے لائے ہیں، اس لئے میں پریشان تھی کہ کیسے بچوں کو سنبھالوں گی،الغرض ماموں کی فوتگی کی شام کو عشاء کے بعد گھر میں سسرال والوں کے ساتھ اس بات پر لڑائی جھگڑا چل رہا تھا کہ بچہ جائے یا نہ جائے؟ بات میں نے اٹھائی تھی اور والدین سے کہا تھا کہ بچہ کو اپنے ساتھ لے جائیں، بہر حال اس دوران دیگر پرانی باتیں بھی اٹھیں ہم گھر کے صحن میں کھڑے تھے، میں تھی، میرے والد صاحب میرے سسر ، ساس اور دیور عبد المنان موجود تھے، اور لڑائی چل رہی تھی کہ اتنے میں میرے شوہر محمد طاہر بھی آگئے، اور ساری باتیں ان کے سامنے آئیں اور سن رہے تھے ، میرا اصرار یہ تھا کہ بچہ میرے والدین کے ساتھ جائے گا، شوہر بھی سن رہا تھا، شوہر کو بھی غصہ آیا اور بولا ” میری طرف سے آزاد ہو ، جانا چاہو چلی جاؤ" یہ بھی واضح رہے کہ میں اپنے جانے کے بارے میں بات نہیں کر رہی تھی ،اور نہ ہی یہ میرا مطالبہ رہا، میں تو بچے کی بات کر رہی تھی۔ اس کے بعد میں کمرے میں گئی، وہ بچہ رورہا تھا، اور اس وجہ سے والدہ کو بھی ان کی بہن کے گھر سے بلالیا تھا کہ بچہ چونکہ ان سے مانوس ہے وہ بچہ کو خاموش کرلے گی، چناچہ وہ بھی آگئی تھی اور میرے ایک اور ماموں محمد اسماعیل بھی اپنی بہن (میری والدہ) سے ملنے آئے تھے ، وہ بھی کمرے میں بیٹھے تھے ، کمرے میں بھی میں والدہ سے یہی اصرار کر رہی تھی کہ بچہ ہر حال میں اپنے ساتھ لے جائیں میں نہیں سنبھال سکوں گی،حالانکہ ان کو انکار نہیں تھا، مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی کہ شاید وہ چھوڑ کر جارہے ہیں، اتنے میں شوہر پھر دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ "میری طرف سے تم آزاد ہو ، جانا چاہ رہی ہو تو چلی جاؤ"۔
اس سے قبل جب بچے پیدا ہونے کا زمانہ قریب آیا تھا، تو میری والدہ میرے پاس آگئی تھی ،تاکہ میری مدد کر سکے ، بچے آپریشن سے پیدا ہو گئے، کچھ دنوں کے بعد میری والدہ واپس کراچی گئی، بچوں کو سنبھالنا مشکل تھا اور کوئی خاص مدد بھی نہیں کر رہا تھا، چنانچہ میرے شوہر مجھے بچوں سمیت کراچی لے آئے اور کہا: " چار ماہ تک یہی رہو ، اس سے پہلے نہیں لے کر جاؤں گا “۔ لیکن دو ماہ بعد واپس لے گئے، پھر ایک دن گھر میں ناشتے کے وقت بچے بھی رو رہے تھے، اور میں ناشتے کی تیاری میں لگی تھی، بچوں کو کوئی نہیں سنبھال رہا تھا، شوہر بھی الگ سے موبائل میں لگے ہوئے تھے ، اور اس پر بات چلی، میں نے کہا کہ " کیوں مجھے چار ماہ سے قبل لے آئے، وہیں رہنے دیتے " ، اس پر شوہر کہنے لگا کہ ’’ آپ میری طرف سے آزاد ہو، جانا چاہتی ہو، چلی جاؤ، اب میں اتنی جلدی نہیں لاؤں گا، خود ہی آنا اپنی مرضی سے “۔
میرے شوہر کا کہنا ہے کہ صحن میں کھڑے ہوتے ہوئے صرف اتنا بولا تھا کہ ”میری طرف سے آپ آزاد ہو ، اور دوسری بار دروازے کی چوکھٹ پر بھی یہی بولا تھا کہ "میری طرف سے آپ آزاد ہو ، اس سے زیادہ کوئی لفظ نہیں بولا، جبکہ ناشتہ کے وقت میں جو باتیں ہو ئیں ان میں ، میں نے ”آزاد“ کا لفظ نہیں بولا تھا، بلکہ "آزادی" کا لفظ بولا تھا کہ میری طرف سے آپ کو آزادی ہے، چلی جاؤ، اور جب چاہے آجانا “ یعنی صرف لفظ "آزاد" میں ان کو اختلاف ہے۔
واضح رہے کہ میرے اور شوہر کے درمیان ان مواقع کے علاوہ کبھی بھی کوئی ایسا جھگڑا ایالڑائی نہیں ہوئی کہ جس میں طلاق یا علیحدیگی کی بات آئی ہو ، باقی معمول کی تکرار اور لڑائی بچوں وغیرہ کی وجہ سے اگر چہ ہو جاتی ہے وہ الگ بات ہے۔
ان تمام تفاصیل کی روشنی میں حکمِ شرعی سے آگاہ کریں کہ کیا ان مختلف مواقع میں جو الفاظ استعمال ہوئے، ( میرے کہنے اور بیوی کے مطابق اور شوہر کے بیان کے مطابق) کیا ان سے طلاق ہوئی یا نہیں ؟ اگر ہوئی تو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں ؟ اور اب دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟
واضح ہو کہ " آزاد " کا لفظ ہمارے عرف میں عموماً صریح طلاق کے لئے استعمال ہوتا ہے ، اس سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا فریقین کے بیان کے مطابق جب سائلہ کے شوہر نے اول الذکر واقعہ کے دوران صحن میں کھڑے ہو کر یہ جملہ کہا کہ تم میری طرف سے آزاد ہو “ اور اس کے کچھ وقت کے بعد دوسری دفعہ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر یہی جملہ دوبارہ کہا، تو اس سے سائلہ پر دور جعی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جبکہ ثانی الذکر واقعہ میں سائلہ کے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے یہ جملہ کہا کہ ” آپ میری طرف سے آزاد ہو ، جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ الخ"، ان جملوں کے سیاق و سباق میں عدم ارادہ طلاق کا قرینہ پایا جاتا ہے جس کو شوہر کے بیان میں مذکور جملہ کہ ”میری طرف سے آپ کو آزادی ہے چلی جاؤ الخ " سے مزید تقویت بھی ملتی ہے، اس لئےشوہر نے مذکور جملہ اگر واقعۃً بھی طلاق کی نیت سے نہ کہا ہو اور اس پر وہ اپنی قبر و آخرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حلف بھی اٹھا سکتا ہو، تو اس سے سائلہ پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہٰذا اگر ابھی تک عدت نہ گزری ہو تو شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، البتہ عدت گزرنے کے بعد وہ بارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے تقرر کے ساتھ باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہو گا، تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا ۔ اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا اھ (3/ 299)
و في الدر المختار: باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب اھ (3/ 296)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله أو دلالة الحال) المراد بها الحالة الظاهرة المفيدة لمقصوده ومنها ما تقدم ذكر الطلاق بحر عن المحيط اھ (3/ 297)۔
وفيه أیضاً: وقد مر أن الوقوع بقوله علي الطلاق إنما هو للعرف لأنه في حكم التعليق، وكذا علي الحرام وإلا فالأصل عدم الوقوع أصلا كما في طلاقك علي كما تقدم تقريره، فحيث كان الوقوع بهذين اللفظين للعرف ينبغي أن يقع بهما المتعارف بلا فرق بينهما، وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال، ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع اھ (3/ 299)۔