میں مسمٰی ...... اقرار معتبر بدرستی ہوش وحواس و صحت بدن اس طور پر کرتا ہوں کہ اور لکھ دیتا ہوں کہ میں مقر کا نکاح ہمراہ مسماۃ.....کو تین بار طلاق ،طلاق ،طلاق کہہ کر اپنی زوجیت سے مؤرخہ 2025/2/8 کو آزاد کرتا ہوں ،آئندہ مسماۃ ...... اپنا عقد نکاح جہاں چاہے، کر سکتی ہے۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کواپنے مکمل ہوش وحواس میں مؤرخہ2025/2/8 کو مذکور الفاظ " طلاق ،طلاق ،طلاق “کہہ دیے ہیں،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ سائل کی بیوی ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ:فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(البقرہ:230)۔
وفی الھندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ(1/473)۔