کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک خاتون ہوں، مجھے میرے سابق شوہر نے تین طلاقیں (نوٹس)ای میل کے ذریعہ بھیجیں، جو کہ پاکستانی سفارتخانے (ڈنمارک) سے تصدیق شدہ ہیں،
پہلی طلاق 10 مارچ کو، دوسری درمیان میں، اور تیسری طلاق 24 جولائی کو دی گئی۔
ہم جنوری سے ساتھ نہیں رہ رہے تھے۔ اب میں شرعی اور قانونی دونوں پہلوؤں کو سمجھنا چاہتی ہوں:
کیا یہ تینوں طلاقیں شرعاً معتبر ہیں جبکہ وہ ای میل کے ذریعہ دی گئیں اور سفارتخانے سے مہر شدہ ہیں؟
تیسری طلاق 24 جولائی کو ہوئی، تو کیا میری عدت کا آغاز اسی تاریخ سے ہو گا؟
جبکہ عدت مکمل ہونے کے بعد، کیا میں شرعی طور پر نیا نکاح کر سکتی ہوں، چاہے یونین کونسل کی جانب سے قانونی کارروائی مکمل ہونے میں وقت باقی ہو؟
کیا شرعی نکاح قانونی نکاح سے پہلے کیا جا سکتا ہے، اگر عدت مکمل ہو چکی ہو؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ میں کب اور کیسے شرعی طور پر نیا نکاح کر سکتی ہوں؟ میں شرعی حکم کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا چاہتی ہوں۔
واضح ہوکہ جس طرح زبانی طور پر طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ،اسی طرح تحریری طور پر طلاق دینےسے بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذاسائلہ کے شوہر نے اگر ایمیل کے ذریعہ پہلی طلاق دینے کے بعد وقفہ وقفہ سے بقیہ دو طلاقیں بھی دوران عدت دی ہوں اور رجوع نہ کیا ہو تو پہلی طلاق کا نوٹس ملتے ہی سائلہ کی عدت شروع ہوچکی تھی،چنانچہ پہلی طلاق کا نوٹس ملنے کے بعد اگر تین ماہواریاں گزرچکی ہوں تو سائلہ کی عدت مکمل ہوچکی ہے، اب اگر سائلہ یونین کونسل کی کاروائی مکمل ہونےسے پہلے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے،اس میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
و فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. (إلی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ (کتاب الطلاق۔ج:3/ص: 246۔ط:مکتبہ سعید)۔
وفیھا ایضا تحت : (قَوْلُهُ وَطَلْقَةٌ) (الی قولہ) وَحَاصِلُهُ أَنَّ السُّنَّةَ فِي الطَّلَاقِ مِنْ وَجْهَيْنِ: الْعَدَدِ وَالْوَقْتِ؛ فَالْعَدَدُ (الی قولہ) أَوْ ثَلَاثًا مُفَرَّقَةً فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ أَوْ أَشْهُرٍ وَهُوَ السُّنِّيُّ الْحَسَنُ.(کتاب الطلاق۔ج:3/ص: 232۔ط:مکتبہ سعید)۔
و فی الدرالمختار:(وَمَبْدَأُ الْعِدَّةِ بَعْدَ الطَّلَاقِ وَ) بَعْدَ (الْمَوْتِ) عَلَى الْفَوْرِ (وَتَنْقَضِي الْعِدَّةُ وَإِنْ جَهِلَتْ) الْمَرْأَةُ (بِهِمَا) أَيْ بِالطَّلَاقِ وَالْمَوْتِ لِأَنَّهَا أَجَلٌ فَلَا يُشْتَرَطُ الْعِلْمُ بِمُضِيِّهِ سَوَاءٌ اعْتَرَفَ بِالطَّلَاقِ، أَوْ أَنْكَرَ.(کتاب الطلاق،باب العدۃ۔ج:3/ص: 520۔ط:مکتبہ سعید)۔
و فی الھندیۃ:إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.کتاب الطلاق،باب العدۃ۔ج:1/ص: 526۔ط:دارالفکر بیروت)۔