جناب مفتی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے، کہ قسطوں کا کاروبارصحیح ہے یا غلط ہے؟ آپ کے جواب کےانتظار میں رہیں گے۔شکریہ۔
درج ذیل چند شرائط ہیں، جن کا لحاظ رکھنے کی صورت میں قسطوں کا کاروبار شرعاً جائز اور درست ہوتا ہے، وہ شرائط یہ ہیں :
اوّل یہ کہ عقد کے وقت نقد یا ادھار لینے کا معاملہ طے کیا جائے، اور کل قیمت بتانے کے بعد کل قسطیں اور ہر قسط کی مقدار بھی متعین کرلی جائے، اور اگر کسی وجہ سے کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہوجائے تو اس پر کچھ جرمانہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے ورنہ یہ عقد جائز نہیں رہے گا۔
کما فی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي - صلى الله عليه وسلم - عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد الخ(13/8)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1