کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام! یو بی ایل بینک کو اپنی برانچ ،یعنی یو بی ایل بنانے کے لئے زمین فروخت کرنا کیسا ہے؟ کیا ہم UBL بینک یا کسی بھی بینک کو اپنی برانچ بنانے کے لئے زمین فروخت کرسکتے ہیں؟ جائز ہے، یا نائز، حرام ہے، یا حلال؟
نوٹ:یو بی ایل بینک والوں نے پہلے ایک جگہ سودی برانچ کےلئےخریدی ہے،اور اب اس جگہ ریجنل آفس بنانے کی غرض سے مزید حصہ بھی مطلو ب ہے،جو ہم سے خریدنا چاہ رہے ہیں،اس لئے ہمیں یہ معلوم کرنا تھاکہ ہم ان کو جگہ فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
واضح ہوکہ سودی بینک کو اپنی زمین وجائیداد اسی نیت سے فروخت کرنا،یا عقد میں اس کی صراحت کرنا تعاون علی المعصیت ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں خریدار نے جب سودی برانچ بنانے کی صراحت کر دی ہے، اور سائل بھی اسی نیت سے اپنی زمین فروخت کررہا ہے ،تو یہ تعاون علی المعصیت میں داخل ہونیکی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالٰی فی القرآن المجید "وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوٰنِۚ وَٱتَّقُوْا اللّٰهَۖ إِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ." (سورةالمائدۃ: 2)۔
ترجمہ:اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو، اور اللہ سے ڈرا کرو، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔
وفی تفیسر ابن کثیر:(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ)يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات،وهو البر،وترك المنكرات وهو التقوى،وينهاهم عن التناصر على الباطل اھ(سورةالمائدۃ،12/2)۔
وفی بحوث فی قضایافقہیۃمعاصرۃ:وبيع العصير ممن يتخذه خمرا،وبيع الأمرد ممن يعصي به،وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها،فكله مكروه تحريما،بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان،فإنه إن لم يعلم كان معذورا،وإن علم وصرح كان داخلا في الإعانة المحرمة.وإن كان سببا بعيدا،بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة،بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها)اھ(أحكام الودائع المصرفية، ص: 361، ط: دار القلم)۔
وفیہ ایضًا:والقسم الثاني من السبب القريب،ما ليس بمحرك للمعصية في نفسه،بل تصدر المعصية بفعل فاعل مختار،مثل بيع ممن يتخذه خمرا،أو إجارة الدار لمن يتعبد فيها للأصنام،فإن هذا البيع أو الإجارة وإن كان سببا قريبا للمعصية، ولكنه ليس جالبا أو محركا للمعصية في نفسه،وحكم هذا النوع من السبب القريب أن البائع أو المؤجر إن قصد بذلك إعانة المشتري أو المستأجر على معصيته،فهو حرام قطعا.أما إذا لم ينو بذلك المعصية،فله حالتان: الحالة الأولى أنه لا يعلم أن المشتري يتخذ من العصير خمرا. وفي هذه الحالة يجوز البيع بلا كراهة. أما إذا علم أنه يتخذه خمرا، فإن البيع مكروه فإن كان المبيع يستعمل للمعصية بعينه، من غير احتياج إلى تغيره، فالكراهة تحريمية، وإلا فهي تنزيهيةاھ(أحكام الودائع المصرفية، ص: 362، ط: دار القلم)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1