طلاق

" آپ میری طرف سے فارغ ہو " بیوی کا دعویٰ ہے کہ شوہر نے دو بار یہ لفظ کہا ہے تو کیا حکم ہوگا ؟

فتوی نمبر :
85140
| تاریخ :
2025-08-10
معاملات / احکام طلاق / طلاق

" آپ میری طرف سے فارغ ہو " بیوی کا دعویٰ ہے کہ شوہر نے دو بار یہ لفظ کہا ہے تو کیا حکم ہوگا ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے تقریباً چھ سال قبل میری والدہ کو طلاق دی تھی ، طلاق کے الفاظ یہ تھے " کہ میری طرف سے ایک طلاق ہے آپ کو " پھر تقریباً ایک ماہ بعد والد صاحب نے رجوع کرلیا تھا، اور پہلی طلاق کے معاملہ کے بعد سے ہی والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان ازدواجی تعلقات ختم ہوچکے ہیں ،اور اس ٹائم سے رہائش بھی علیحدہ ہے ،جبکہ ابھی حالیہ واقعہ میں غصہ اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے والد صاحب نے موبائل فون پر والدہ کو طلاق کے الفاظ کہے ہیں جس کے متعلق دونوں کا آپس میں اختلاف ہے اور دونوں اپنے اپنے مؤقف پر حلفیہ بیان دیتے ہیں ۔

بیوی (سائل کی والدہ ) مسماۃ ....اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میرے شوہر سے بحث ہورہی تھی ،اور وہ بات نہیں مان رہے تھے جس پر میں نے کہا کہ آپ نے جب میری بات نہیں ماننی تو مجھے طلاق دیدو ،شوہر نے کہا کہ ٹھیک ہے ،اپنے بھائیوں کو بلالے میں فارغ کردوں گا ، اس کے بعد گالیاں وغیرہ دی اور پھر دوبار کہا کہ تو میری طرف سے فارغ ہے۔

شوہر (سائل کے والد ) مسمی ٰ.....اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دیتا ہو ں کہ میری بیوی مسماۃ .... طلاق کے جن الفاظ کا ذکر کررہی ہے وہ میں نے قطعاً نہیں کہے ہیں ۔
اب اس صورت حال میں معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کے درمیان طلاق واقع ہوچکی ہے یا نہیں ؟ اور اب ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد صاحب نے آج سے تقریباً چھ سال قبل مذکور الفاظ " میری طرف سے ایک طلاق ہے آپ کو " اپنی بیوی کو کہے ہوں تو اس سے سائل کی والدہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی جس کے بعد سائل کے والد کو شرعاً رجوع کا حق حاصل تھا، چنانچہ اگر سائل کے والد نے دوران عدت زبانی طور پر رجوع کرلیا ہو مثلاً " میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ " جیسے الفاظ کہہ دیے ہوں تو اس سے رجوع بھی درست ہوکر دونوں کا نکا ح بحال ہوچکا تھا ۔
جبکہ حالیہ واقعہ جس میں سائل کی والدہ کا کہنا ہے کہ سائل کے والد نے غصہ کی حالت میں بذریعہ موبائل فون مذکور الفاظ " آپ میری طرف سے فارغ ہو " دوبار کہے ہیں ،اور سائل کے والد مذکور الفاظ کہنے سے انکاری ہیں اور سائل کی والدہ کے پاس شرعی گواہان بھی موجود نہیں ہیں اور سائل کی والدہ اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہے کہ واقعۃً اس نے یہ الفاظ سنے ہیں تو "المراۃ کا لقاضی "کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے سائل کی والدہ کو چاہیئے کہ اپنے آپ کو مطلقہ بائنہ سمجھے اور بغیر تجدیدِ نکاح کے شوہر کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے جبکہ بقیہ الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکے ہیں ، اور سائل کی والدہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،البتہ یہ معاملہ اگر قاضی (جج ) کی عدالت میں پہنچ جائے اور قاضی گواہ نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے تو ایسی صورت میں عورت اگرچہ گنہگار نہ ہوگی ، لیکن جب اس نے الفاظ طلاق خود اپنے کانوں سے سنے ہوں تو اس کو چاہیئے کہ بغیر تجدید نکاح کے شوہر کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے ،بلکہ طلاق باالمال یا خلع کے ذریعے اس سے خلاصی ہر ممکن کوشش کرے ۔


مأخَذُ الفَتوی

وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
وفی الشامیۃ:(قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن: بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (الی قولہ) وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر اھ (5/407)۔
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)-
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد قاسم حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85140کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات