کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے تقریباً چھ سال قبل میری والدہ کو طلاق دی تھی ، طلاق کے الفاظ یہ تھے " کہ میری طرف سے ایک طلاق ہے آپ کو " پھر تقریباً ایک ماہ بعد والد صاحب نے رجوع کرلیا تھا، اور پہلی طلاق کے معاملہ کے بعد سے ہی والدین کا کہنا ہے کہ ہمارے درمیان ازدواجی تعلقات ختم ہوچکے ہیں ،اور اس ٹائم سے رہائش بھی علیحدہ ہے ،جبکہ ابھی حالیہ واقعہ میں غصہ اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے والد صاحب نے موبائل فون پر والدہ کو طلاق کے الفاظ کہے ہیں جس کے متعلق دونوں کا آپس میں اختلاف ہے اور دونوں اپنے اپنے مؤقف پر حلفیہ بیان دیتے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے والد صاحب نے آج سے تقریباً چھ سال قبل مذکور الفاظ " میری طرف سے ایک طلاق ہے آپ کو " اپنی بیوی کو کہے ہوں تو اس سے سائل کی والدہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی جس کے بعد سائل کے والد کو شرعاً رجوع کا حق حاصل تھا، چنانچہ اگر سائل کے والد نے دوران عدت زبانی طور پر رجوع کرلیا ہو مثلاً " میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ " جیسے الفاظ کہہ دیے ہوں تو اس سے رجوع بھی درست ہوکر دونوں کا نکا ح بحال ہوچکا تھا ۔
جبکہ حالیہ واقعہ جس میں سائل کی والدہ کا کہنا ہے کہ سائل کے والد نے غصہ کی حالت میں بذریعہ موبائل فون مذکور الفاظ " آپ میری طرف سے فارغ ہو " دوبار کہے ہیں ،اور سائل کے والد مذکور الفاظ کہنے سے انکاری ہیں اور سائل کی والدہ کے پاس شرعی گواہان بھی موجود نہیں ہیں اور سائل کی والدہ اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی جواب دہی کے لئے بھی تیار ہے کہ واقعۃً اس نے یہ الفاظ سنے ہیں تو "المراۃ کا لقاضی "کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے سائل کی والدہ کو چاہیئے کہ اپنے آپ کو مطلقہ بائنہ سمجھے اور بغیر تجدیدِ نکاح کے شوہر کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے جبکہ بقیہ الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوچکے ہیں ، اور سائل کی والدہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،البتہ یہ معاملہ اگر قاضی (جج ) کی عدالت میں پہنچ جائے اور قاضی گواہ نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے تو ایسی صورت میں عورت اگرچہ گنہگار نہ ہوگی ، لیکن جب اس نے الفاظ طلاق خود اپنے کانوں سے سنے ہوں تو اس کو چاہیئے کہ بغیر تجدید نکاح کے شوہر کو اپنے اوپر ہرگز قدرت نہ دے ،بلکہ طلاق باالمال یا خلع کے ذریعے اس سے خلاصی ہر ممکن کوشش کرے ۔
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
وفی الشامیۃ:(قوله: كالقضاء باليمين الكاذبة) محترز قول المتن: بشهادة قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف، والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام معه، ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (الی قولہ) وفي الخلاصة ولا يحل وطؤها إجماعا بحر اھ (5/407)۔
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)-
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔