کیا فرماتے ہیں علماءِ دین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ہفتہ قبل ہفتہ کی رات میری اور میری بیوی کی لڑائی چل رہی تھی، اور رات دیر تک چلتی رہی، اس دوران میری ساس اور چچازاد بھائی بھی آگئے تھے، رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بج گئے تھے ، اور آخر اس وقت مجھے انتہائی غصہ آگیا تھا، میں نے باتوں باتوں میں بیوی کے سامنے زمین پر یعنی فرش پر انگلی سے لکیریں کھینچتے ہوئے تین لکیریں کھینچیں، ہر لکیر کے ساتھ عدد کا تذکرہ کیا اس طریقہ سے ایک، دو، تین“ ، اور پھر ایک دفعہ بولا" تو مجھ سے آزاد ہو. جاؤ"اس کے بعد بھی لڑائی جاری رہی، چنانچہ میں نے پھر بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”تو مجھ پر طلاق والی ہے “، پشتو میں الفاظ اس طرح تھے (تہ را باندے طلاقہ یے)، میں دوبارہ یہی الفاظ بولنے لگا اور اتنا بولا تھا کہ ’’تہ را باندے ‘‘ کہ میری ساس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور ”طلاقہ یے “ کے الفاظ کھل کر نہیں بول سکا کہ دوسر اسن کر سمجھ سکے، البتہ بند منہ کے ساتھ اندر اندر بول دیا،اس کے بعد بھی ہم وہیں بیٹھے رہے، ساس بھی بیٹھی تھی، بیوی میرے قریب آئی اور منانے لگی، میں غصہ میں تھا، میں نے کہا " دفع ہو جاؤ، تو مجھ پر طلاق والی ہو " (لرے شہ تہ را باندے طلاقہ ئے) اس دفعہ بھی میں دوبارہ بولنے والا تھا کہ بیوی نے اس شدت سے میرے منہ پر ہاتھ رکھا کہ میں کچھ نہیں بول سکا۔
میری بیوی کا کہنا ہے کہ تیسری دفعہ تم نے نہیں کہا کہ ”تہ پہ ماطلاقہ ئے" اور نہ میں نے سنا ہے، میں نے تو تمہارے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تیسری دفعہ میں نے ایک دفعہ تو واضح انداز میں بول دیا تھا کہ ” تہ پہ ماطلاقہ ئے" اور دوسری دفعہ منہ پر بیوی کا ہاتھ آنے کی وجہ سے نہ بول سکا۔
میری ساس کا کہنا ہے کہ دوسری بار تم ایک بار بھی پورا نہیں بول سکے ہو ، جب تم بولنے لگے تھے کہ ”تہ پہ ما باندے“ تو میں نے ہاتھ تمہارے منہ پر رکھ دیا اور پھر جب بولنے کی کوشش کی تو پھر میں نے ہاتھ رکھ کر تمہارا منہ بند کر دیا تھا، حالانکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ان الفاظ کے بعد کہ ” تم مجھ سے آزاد ہو " ایک دفعہ میں نے ساس کے سامنے واضح طور پر کہا کہ ” تہ را باندے طلاقہ ئے“ اور دوسری دفعہ جب میں نے کہا کہ ’’تہ را باندے‘‘ تو ساس نے ہاتھ رکھ لیا اور میں پورا نہیں بول سکا، الغرض ساس اور بیوی کا کہنا ہے کہ تم نے صرف ایک دفعہ لکیریں کھینچ کر ” ایک دو تین تہ مانہ آزادہ ئے‘‘ بولا ہے ، اس کے بعد تم نہ بول سکے ہو ہمارے ہاتھ رکھنے کی وجہ سے اور نہ ہم نے سنا ہے۔ اب آپ فیصلہ فرمادیں کہ کیا ہماری طلاقیں ہوئی ہیں ؟ اگر ہوئی ہیں تو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں ؟ اور اب ہم میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب تین لکیریں کھینچ کر ساتھ ہی یہ کہا کہ ” ایک، دو، تین، تم مجھ سے آزاد ہو . جاؤ ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیں، اور عدت کے بعد عورت اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ جبکہ بعد میں استعمال ہونے والے الفاظ " تو مجھ پر طلاق ہے " کہنے سے اگر چہ طلاق واقع ہو جاتی ہے، مگر صورتِ مسئولہ میں وہ طلاق کا محل یعنی بیوی کے نکاح میں نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہیں، تاہم اگر اب ساتھ رہنے کا ارادہ ہو تو ایسا کرنا حلالۂ شرعیہ کے بغیر ممکن نہیں، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے، ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی۔ اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے کم از کم ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی گزارنے کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور وہ پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر راضی ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، مگر حلالہ اس شرط پر کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دیدے گا تا کہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے، مکروہ تحریمی ہے جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره اھ (3/ 230) ۔
و في الفتاوى الهندية؛ وكوني حرة أو اعتقي مثل أنت حرة كذا في البحر الرائق اھ (1/ 376)۔
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: في الهداية: والمحلل الشارط هو محمل الحديث لأن عمومه وهو المحلل مطلقا غير مراد إجماعا اھ (5/ 2150)۔
و في الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/ 473)۔