مؤرخہ 17 جنوری 2016 ۔۔۔۔ کا نکاح ۔۔۔ سے قرار پایا ،اور ۶ ماہ بعد 1 اگست 2016 کو رخصتی کی گئی ، رخصتی کے دو ماہ بعد۔۔۔امید سے ہوگئی ،لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر ۔۔۔ کا حمل ضائع ہو گیا اور ہسپتال سے واپسی پر ماں اور بیٹے کا جھگڑا ہو گیا، تو انہوں نے بیٹے اور بہو کو اسی حالت میں گھر سے نکال دیا، آخر کار رشتے داروں نے بیچ میں آکر معاملہ حل کر وایا، اور بیٹے اور بہو کو واپس اپنے گھر بھجوایا ، اس کے بعد اللہ نے ۔۔۔کو پھر امید سے کروایا دوماہ پھر سے گزرے ،تو شوہر ،بیوی کو کراچی والدین کے پاس اس بہانے سے لیکر آگیا کہ میری ماں نے پہلے بھی زیادتی کی تھی ،اس لئے اس بار شروع کے پانچ ماہ بیوی یہاں آرام کرلے، اور اس عرصے میں ،میں اپنے کام سیٹ کرکے اور الگ گھر لیکر اپنی بیوی کو واپس پنڈی لے جاؤں گا ،مگر اس نے واپس جا کر کوئی رابطہ نہیں کیا ، 7 ماہ گزر گئے، اللہ نے بیٹا دیا، وہ پھر بھی نہیں آیا،نہ فون کیا، اب وہ بیٹا 2 سال کا ہو گیا ہے، اور 2 سال 8 ماہ سے بچے اور بیوی پر ایک روپیہ نہیں لگایا اور نہ ہی دونوں کو ایک بار بھی دیکھا ہے ، اور اب وہ بیوی کو طلاق دینا چاہتے ہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ ہم خود طلاق نہیں دینگے، آپ خود کورٹ سے خلع لے لو، رہی بات بیٹے کی تو وہ آج بھی ہمارا ہے ،اور ہم اسے لے لینگے، اور ہمیں کوئی بھی نہیں روک سکتا ہے ؟
سوال میں مذکور بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو تو مسماۃ ۔۔۔ کے شوہر اور سسرالیوں کارویہ انتہائی نامناسب اور ظلم پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط روش سے باز آ کر اپنے بیٹے کا گھر بسانے کی پوری کوشش کریں ، اگر ضرورت پڑے تو برادری کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر معاملے کو حل کریں، تاہم اگر مصالحت کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو مسماۃ ۔۔۔ اپنے شوہر سے طلاق یا خلع بھی لے سکتی ہے ، خلع اور طلاق کے لیے عدالت جانے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ باہمی رضامندی سے عدالت سے باہر بھی یہ معاملہ ہو سکتا ہے ، اس لئے مسماۃ ۔۔۔ کے شوہر کا طلاق یا خلع کے لیے انہیں عدالت جانے پر مجبور کرنا بھی غلط طرز عمل ہے جس سے احتر از لازم ہے۔ جبکہ دونوں کی علیحدگی ہو جانے کی صورت میں مذکور دو سال کا بیٹا سات سال کی عمر تک اپنی ماں کی پرورش میں رہے گا، بشر طیکہ بچے کی ماں طلاق وغیرہ کے بعد بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرے، دوران پرورش بچے پر آنے والے تمام اخراجات بچے کے والد کے ذمہ لازم ہونگے، سات سال کے بعد بچے کا والد اس کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔
كماقال الله تعالى:{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا }[البقرة:229]۔
وفي حاشية ابن عابدين(رد المحتار):وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ (3/ 441)۔۔
وفي أحكام القرآن للجصاص:قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (3/ 152، 154)۔
وفي الدر المختار:(والحاضنة)أما، أو غيرها (أحق به)أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب اھ(3/ 566)واللہ اعلم بالصواب