السلام علیکم ! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میری بیوی کے گلے میں ایک تعویذ ہے، وہ کہتی ہے کہ اگر یہ میرے گلے سے اُترا تو سمجھو کہ طلاق ہو گئی، تو کیا یہ طلاق ہو جائے گی۔
سائل کی بیوی کا مذکور قول محض جہالت اور توہم پرستی پر مبنی ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ طلاق دینے یا نہ دینے کا اختیار صرف خاوند کو ہے،اس کا تعویذ وغیرہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
کما في تنزیل العزیز: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّٰهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ، الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فیمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [البقرة: 228،229]