کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ
شوہر نے بیوی کو کہا کہ "میں نے آپ کو اپنی ماں کے گھر دو طلاقیں دی تھیں ،اور ایک طلاق اپنے گھر پر دی ہے " اس بات کو تقریباً 2 سال ہو چکے ہیں، اس دوران کئی مرتبہ آپس میں چپقلش ہوئی ،تو شوہر ہر مرتبہ یہی کہتا کہ آپ تو میری طرف سے آزاد ہو چکی اب تک یہاں کیا کر رہی ہو ، پرانی طلاقوں والا قصہ ہر لڑائی پر دہراتا تھا، یہ بیوی کا حلفیہ بیان ہے، برائے مہربانی حکم شرعی سے آگاہ فرمائیں کہ مذکور صورت میں کتنی طلاقیں ہوتی ہیں ؟ اور اب دونوں کا دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟ شکریہ
بیوی کا بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو ،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ شوہر نے اس کے سامنے اپنی ماں کے گھر دو طلاق اور اپنے گھر پر ایک طلاق دینے کا اقرار کیا ہو تو اس سے اس پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری عقد نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
و في صحيح مسلم: عن عائشة، قالت: جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك»، اھ (2/ 1055)۔
و في الفتاوى الهندية: ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع اھ (1/ 355)۔
و في بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ (3/ 187) والله أعلم بالصواب
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0