عرض یہ ہے کہ اگر ہم بینگ میزان میں رقم رکھ کر اس کا منافع لیں تو یہ سود سے پاک ہوگا؟ بینک میزان والوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم آپ کی رقم حلال کے کاموں کی آمدنی میں خرچ کرتے ہیں، اور پھر اس کا منافع دیتے ہیں، اور ان کا کہنا یہ ہے کہ میزان بینک ایک شریعت سپروائزری بورڈ پر مشتمل ہے جسکی بین الاقوامی شہرت کے ممتاز اسلامی اسکالر نگرانی کر رہے ہیں، اور بینک کے منصوبوں اور سرگرمیوں کی منظوری دیتے ہیں، بینک کا ایک اپنا مستقل شریعت ایڈوائزر ڈاکٹر محمد عمران عثمانی ہے، جو کہ بینک کہ روز مرّہ کی شرعی معمولات کی نگرانی کرتے ہیں، بینک کا شریعت بورڈ مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل ہے۔
چیرمین: جسٹس ریٹائرڈ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ( پاکستان) ، ممبران: ڈاکٹر عبدالستار ابوغدہ (سعودی عرب)، شیخ حسام محمد اسحاق(بحرین)، ڈاکٹر محمد عمران عثمانی (پاکستان)، جناب علماءِ کرام اس کی وضاحت زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں چاہئیے، جسے ہم اپنے ساتھ ثبوت کے طور پر رکھ سکیں، نیز اگر بینکِ اسلامی کے بارے میں بھی معلومات ہوں تو فراہم کریں کہ اس کام سود سے پاک ہے کہ نہیں؟ آپ صاحبان کی بڑی مہربانی ہوگی۔
واضح ہو کہ ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی کے معاملات شرعی ایڈوائزری بورڈ کی نگرانی میں اور اصولِ شرعیہ کے موافق ہوتے ہیں، اس لئے ان دونوں کے ذریعے سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی جاتی ہے، جب کہ زیادہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اگر خود مرابحہ ومضاربہ یا مشارکہ واجارہ کے ذریعے سرمایہ کاری کرسکتے ہوں، تو کسی بینک میں رقم انویسٹمنٹ سے احتراز ہی کیا جائے، اور اگر بوقتِ مجبوری بینک کے ساتھ کوئی معاملہ کرنا ہی پڑ جائے، تو میزان بینک اور بینک اسلامی کے ذریعہ سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے، اس کے علاوہ دیگر بینکوں کے ساتھ معاملات انجام دینے سے منع کیا جاتا ہے، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ اس کے موافق عمل کرے۔