کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تقریباً پانچ سال قبل میرا نکاح مسماۃ ثمینہ سے ہوا تھا، اور ہمارے تین بچے بھی ہیں ، میری بیوی تقریباً پانچ ماہ سے اپنی والدہ کے گھر پر بیٹھی تھی جس کی وجہ سے مجھے غصہ تھا اور اس غصہ کی حالت میں میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہہ دیئے " کہ میں اپنی زندگی بناتا ہوں آپ اپنی زندگی بنائیں، ایک بار طلاق، دو بار طلاق، تین بار طلاق" تیسری بار جب یہ بولا" کہ تین بار طلاق " تو میری خالہ نے میرے منہ ہاتھ رکھ دیا ، لیکن جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ میں نے تیسری بار بھی طلاق کا لفظ بول دیا تھا، تو اس صورت میں کتنے طلاقیں واقع ہوئی؟ اور ہمارے لئے کیا حکم ہے؟قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے غصہ کی حالت میں اپنی بیو ی کو مذکور الفاظ" ایک بار طلاق، دو بار طلاق، تین بار طلاق "تین بار کہہ دئے ، تواس سےاس کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالہ شرعیہ کےبغیرباہم عقدِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ( سورۃ البقرۃ: 230)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: متی کرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغیر حرف الواو یتعدد الطلاق الخ (الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج: 1، ص: 390، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی رد المحتار: و لا یلزم کون الاضافۃ صریحۃً فی کلامہ؛ لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت؟ فقال امرأتی طلقت امرأتہ الخ ( باب الصریح، ج: 3، ط: سعید )۔
و فی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک، وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر، لقولہ عز و جل (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ سواء طلقھا ثلاثا متفرقا أو جملۃ واحدۃ الخ(فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز، أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔ الخ (کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 473، ط: مجدیۃ )۔