شوہر نے طلاق بائن دی اور نکاح نہیں کیا اور اسکے بعد 1 صریح طلاق دی اب بیوی کو یاد نہیں کہ طلاق صریح طلاق بائن کی عدت میں دی ہے یا طلاق بائن کی عدت کے بعد پہلے بیوی کو یاد تھا کہ طلاق صریح طلاق بائن کی عدت کے بعد دی ہے لیکن اب بیوی کو شک ہے کہ طلاق بائن کی عدت میں طلاق صریح دی ہے تو اب نکاح کے بعد کتنی طلاق شمار ہوں گی ایک یا دو؟
صورت مسؤلہ میں اولا اگر بیوی کو شوہر کی جانب سے ایک طلاق بائن دیئے جانے کے بعد دوسری طلاق سے قبل عدت گذرجانے کا یقین ہو لیکن اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسے یہ خیال اور شک گزررہا ہو کہ کہی دوسری طلاق بھی عدت کے دوراں تو واقع نہیں ہو ئی تو فقط شک کی بنا پر دوسری طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ میاں بیوی اگر باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تو تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں لیکن آئندہ کے لیئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لیئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
وفی الاشباہ و النظائر الیقین لایزال بالشک قولہ ﷺ اذا وجد احدکم فی بطنہ شیءا فشک لعلہ اخرج منہ شیئ ام لا فلایخرجن من المسجد حت یسمع صوتا او یجد ریحا رواہ مسلم (ص : 37 ناشر دار الفکر)
و فی الشامیة : قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس الخ ( باب المرتد، ج 4،ص224،ط: سعید)
وفی رد المحتار الصریح یلحق الصریح ویلحق البائن بشرط العدۃ ( ج :3 ص : 306 ناشر سعید )