طلاق

حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق سے کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

فتوی نمبر :
85384
| تاریخ :
2025-08-18
معاملات / احکام طلاق / طلاق

حیض کی حالت میں دی ہوئی طلاق سے کیا طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

میں آپ سے ایک فتوی ٰلینا چاہتا ہوں، مگر اس سے پہلے چاہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں کچھ ضروری باتیں جان لیں،اللہ کو حاضر و ناظر جان کر،میں ایک اچھے خاندان سے ہوں، پہلے دبئی میں اپنی فیملی کے ساتھ رہا کرتا تھا، اور کسی مالی مسئلے کا سامنا نہیں تھا۔ میری زندگی بہت اچھی گذر رہی تھی۔ میرے سُسرال والے بھی دبئی میں ہی تھے۔ میری اور میری بیوی کی پسند کی شادی ہوئی تھی۔ کچھ عرصے بعد میری بیوی کے گھر والے پاکستان منتقل ہو گئے۔ میں نے زندگی کا بیشتر حصہ سعودی عرب میں گزارا۔ میرا ہمیشہ پاکستان میں کاروبار کرنے کا شوق تھا۔ کچھ وقت بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان چلے جائیں، مگر میرے گھر والے، خصوصاً والدین راضی نہ تھے کہ میں پاکستان آ جاؤں۔پھر ہم پاکستان آ گئے اور میں نے یہاں کاروبار شروع کیا۔ میری فیملی ابھی تک متحدہ عرب امارات میں تھی۔ میں، میری بیوی اور ہمارے بچے اچھی زندگی گزار رہے تھے،الحمدللہ ایک اچھا گھر، اچھی گاڑی، اور ہر نعمت میسر تھی۔میں نے اپنی بیوی اور بچوں کی کوئی کمی نہیں ہونے دی۔ مگر 2022 میں حالات خراب ہونے لگے۔ میرا کاروبار زوال کی طرف گیا۔ میں کافی سفر کرنے لگا دوستوں کے ساتھ کام کے سلسلے میں۔ مگر مالی مسائل روز بروز بڑھتے گئے۔پھر 2023 میں مالی قرضوں نے مجھے گھیر لیا۔ ایک طرف قرضوں کا بوجھ، دوسری طرف بیوی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگیاں۔ آپ جانتے ہیں کہ جب مالی پریشانیاں آتی ہیں تو زندگی کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ بیوی کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے، سخت گفتار، غصہ ایسی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ایک دن میں نے نیا راستہ اختیار کرنے کا سوچا۔ ایک ایلیٹ گیدرنگ کی تقریب تھی، ڈفنس میں۔ وہاں ایک لڑکی مجھے پسند آئی۔ دوستوں نے کہا کہ جھوٹ بول کر دوستی شروع کرو، شادی کا ذکر نہ کرنا، اور خوشگوار گفتگو کرو۔ مگر یہ کام مجھے عجیب لگتا تھا۔ میں نے اس لڑکی سے دوستی کی، معلوم ہوا وہ کراچی کی ہے اور یہاں ویٹریس کی نوکری کرتی تھی ،مگر فیصل آباد واپس جانا چاہتی تھی۔ میں نے اس کو دوستوں کی مدد سے وہاں سے آزاد کروایا،مگر اس نے میرے ساتھ باتیں شروع کر دیں۔ پھر گھر میں میں اور میری بیوی کے مابین شدید جھگڑا ہوا۔ غصے کے عالم میں میں نے محسوس کیا کہ میں اب مزید جاری نہیں رہ سکتا کہ شاید مجھے زندگی ختم کر دوں،میں نے کبھی اپنی بیوی یا کسی بھی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ لیکن اُس دن، غصے کی حالت میں، میں نے بیوی سے کہا: "میں تمہیں جان سے مار دوں گا!" مگر چند سیکنڈ میں ہی مجھے احساس ہو گیا کہ یہ میں کیا کہہ رہا ہوں — یہ تو میرا طریقہ نہیں، یہ تو دیوانگی ہے۔پھر میں نے بیوی سے کہا کہ "میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا"، اور غصے میں آکر میں نے اُسے تین بار طلاق دے دی۔ یہ سب کچھ میں آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ مجھے اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ میں ایک بیٹی اور ایک بیٹے کا باپ ہوں۔ یہ واقعہ 27 مئی 2023 کو پیش آیا۔میری بیوی نے میری بڑی بہن کو بلایا اور ساری بات بتائی، مگر اُس نے میری بہن سے گزارش کی کہ وہ یہ بات میرے گھر والوں کو نہ بتائیں اور مجھے چھوڑ کر نہ جائیں۔ بعد میں میں نے جرمنی جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے بچوں کو وہاں لے جانے کا ارادہ کیا، تاکہ وہ سکون سے رہ سکیں۔ لیکن میرے سسر نے کہا کہ چونکہ صرف کچھ مہینوں کی بات ہے، تو بچوں کو یہیں چھوڑ دو،چنانچہ ہم نے بچوں کا پورا سامان شفٹ کر کے اُن کے نانا کے گھر رکھ دیا۔میری ساس بیمار تھیں، ان کی خدمت بھی میری بیوی کر رہی تھی، اور ان کا سارا خرچہ بھی ہم ہی اٹھا رہے تھے۔ میرے گھر میں سوائے میری بہن کے کسی کو طلاق کا علم نہیں تھا، اور میرے والد بھی اپنے پوتے پوتی کو یوں نہیں چھوڑ سکتے تھے، اس لیے وہ بھی اُن کے ساتھ رہنے لگے،سب کو یقین تھا کہ میں اپنی بیوی کو منا لوں گا، لیکن اس کے باوجود، اتنے بڑے گھر کے باوجود، بیوی کے بھائی اور بھابھی نے اتنا تنگ کیا کہ رہنا مشکل ہو گیا۔ جبکہ میں ہمیشہ بیوی کے میکے والوں کو مالی طور پر سپورٹ کرتا رہا ،اس کے دو بھائیوں اور بہن کی شادیوں کا خرچ بھی میں نے ہی اٹھایا تھا۔مگر حالات یہاں تک بگڑ گئے کہ اُن لوگوں نے میری بیوی اور بچوں کو گھر سے نکال دیا۔ پھر میں نے ایک نیا گھر کرائے پر لے لیا اور اب بچے وہاں خوشی سے رہ رہے ہیں۔ میں نے بچوں کو جرمنی بلانے کے لیے بھی اپلائی کر دیا ہے، کیونکہ میرے والدین نہیں چاہتے کہ میرے بچے باپ کے بغیر پاکستان میں رہیں۔اس گھر کا سارا خرچہ میں ہی برداشت کر رہا ہوں۔ میری بیوی عزت سے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہے۔ میری بہن اور بیوی کی بہن کو سب پتا ہے،ویسے بھی بیوی کی بہن سے اُس کی خاص بنتی نہیں۔ البتہ میری بہن نے کہا ہے کہ اُس (بیوی) کو جرمنی بلا لو، یہاں اُس کا کوئی سہارا نہیں۔ ہم اُس کے لیے انتظام کر دیں گے۔میری بیوی نے دس سال تک اپنے گھر والوں کی ہر طرح سے خدمت کی، مگر حالات خراب ہوتے ہی سب نے اسے چھوڑ دیا اور سڑک پر لا کھڑا کیا۔ خیر، اب اللہ کا شکر ہے کہ حالات بہتر ہو گئے ہیں الحمداللہ جب میں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی، تو اس کے بعد میں نے اُس لڑکی سے نکاح کر لیا جس سے میری ملاقات ایک نامناسب جگہ پر ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی، اور میری نیت بھی یہ تھی کہ میں اسے کبھی دھوکہ نہیں دوں گا۔ یوں وہ میرے نکاح میں آ گئی۔نکاح سے پہلے مجھے یاد ہے کہ میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا: "ہاں، میں نے طلاق دی ہے،اور واقعۃً میں نے طلاق دی بھی تھی۔پھر جب میں ملک سے باہر چلا گیا تو شروعات میں بچوں کے لیے بہت مشکل وقت تھا، کیونکہ انہوں نے کبھی میرے بغیر زندگی نہیں گزاری تھی۔اس کے بعد بچوں کی ماں (میری پہلی بیوی) نے ایک عالم سے فتویٰ لیا، اور انہوں نے یہ کہا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ جس وقت میں نے طلاق دی، اس وقت میری بیوی حالتِ حیض (ماہواری) میں تھی۔اب میں یہ بات یقینی طور پر جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میری پہلی بیوی کو طلاق واقع ہوئی تھی یا نہیں؟میری زندگی اس وقت بہت مشکل ہو گئی ہے، کیونکہ جس عورت سے میں نے دوسری شادی کی ہے، وہ انتہائی بدزبان اور بدتمیز ہے۔ وہ مجھے بددعائیں دیتی ہے، نازیبا زبان استعمال کرتی ہے، حالانکہ میں اس کی تمام ضروریات پوری کرتا ہوں، مالی طور پر بھی، اور ہر لحاظ سے۔ساتھ ہی میں اپنی پہلی بیوی اور بچوں کی بھی مکمل ذمہ داری نبھا رہا ہوں، ان کا خرچہ رہائش سب کچھ،لیکن میری دوسری بیوی کہتی ہے کہ "اگر تمہاری پہلی بیوی کو طلاق نہیں ہوئی تھی تو مجھے چھوڑ دو“حالانکہ نکاح کے وقت میں نے اور میرے گھر والوں نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ بچوں کا خرچ، گھر، تمام ذمہ داریاں میری ہی ہوں گی۔لیکن چونکہ پاکستان میں عموماً لڑکی والوں کو طلاق دے کر میکے بھیج دیا جاتا ہے اور وہ آگے جو کریں، وہ اللہ ہی جانے،لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ یہی بات میری دوسری بیوی کو کھٹکتی ہے اور وہ اسی بات پر لڑتی ہے۔میری بڑی بہن نے بھی اسے سمجھایا کہ ہم اپنی نسل کو یونہی نہیں چھوڑ سکتے، میاں بیوی کے اختلافات یا لڑائی جھگڑوں کی بنیاد پر بچوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ظاہر میں تو وہ چپ ہو جاتی ہے، لیکن پسِ پردہ مجھ سے روز جھگڑے اور تماشے کرتی ہے۔اب میں آپ سے دو باتوں میں مشورہ چاہتا ہوں:. کیا ایسی عورت کے ساتھ رہنا درست ہے؟ کیا وہ رہنے کے لائق ہے؟ . اور سب سے اہم سوال: کیا میری پہلی بیوی کو شریعت کے مطابق طلاق واقع ہوئی تھی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے(خواہ بیوی پاکی کی حالت میں ہویا ناپاکی کی) لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں تین بار صریح الفاظ میں (جیساکہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)کہہ دیئے،اگر چہ سائل کی بیوی حالت حیض میں تھی ،تب بھی سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہےاب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا اس کے بعددونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں اس لیے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں کیونکہ وہ دونوں طلاق کے بعد ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نامحرم ہوچکے ہیں اب تک ان دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو وقت گزارا ہے،اس پر صدق دل سے توبہ واستغفاربھی کریں ، جبکہ سائل کی دوسری بیوی کا بیان کردہ مذکور طرز عمل انتہائی نامناسب اور شرعاً شوہر کی نافرمانی کے زمرے میں آتاہے،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس غلط رویے کی اصلاح کرے اور شوہر کی عزت وتکریم کا مکمل خیال رکھے،تاہم اگر باربار سمجھانے کے باوجود وہ اپنی غلط روش کو ترک کرنے پر آمادہ نہ ہو اور اس ذہنی اذیت کے ساتھ اکٹھے رہنا دشوار ہوچکاہو تو سائل کے لیے طلاق کے ذریعے اسے اپنی زوجیت سے علیحدہ کرنے کی بھی گنجائش ہےاور ایسا کرنے سے گناہ گار نہ ہوگا،البتہ اس صورت میں سائل کو چاہیئے کہ تین طلاقیں نہ دے، بلکہ ایک طلاق بائن دیدے،تاکہ دوبارہ ایک ساتھ رہنے کی صورت باقی رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ (سورۃ البقرۃ ایت نمبر 230)۔
وفی صحیح مسلم: عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت طلق رجل امراتہ ثلاثا فتزوجھا رجل ثم طلقھا قبل أن یدخل بھا فأراد زوجھا الاول أن یتزوجھا،فسئل رسول اللہ ﷺ عن ذلک فقال لا حتی یذوق الآخر من عسیلتھا ما ذاق الأول الخ (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 736، ط: البشریٰ)۔
وفی الھندیۃ: (والبدعی) من حیث الوقت أن یطلق المدخول بھا وھی من ذوات الاقراء فی حالۃ الحیض أو فی طھر جامعھا فیہ وکان الطلاق واقعا و یستحب لہ أن یراجعھا والاصح أن الرجعۃ واجبۃ ھکذا فی الکافی الخ (ج: 1، ص: 349، کتاب الطلاق ط : ماجدیہ)۔
وفی الشامیۃ: وللحافظ ابن القیم الحنبلی رسالۃ فی طلاق الغضبان قال فیھا إنہ علی ثلاثۃ أقسام أحدھا أن یحصل لہ مبادی الغضب بحیث لا یتغیر عقلہ ویعلم ما یقول ویقصدہ وھذا لا إشکال فیہ الخ (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 244، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحییحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (الباب السادس فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج: 1، ص: 472، ط: ماجدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85384کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات