کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے اپنی بیوی کو 17 جنوری 2025 کو ان الفاظ میں طلاق دی ”ہم نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی “شوہر نے بیوی سے رجوع کر لیا ،اس کے دو ،تین دن کےبعد شوہر نے پھر غصے میں یہ الفاظ کہے ”بھائی میں نے تجھے طلاق دے دی نا،بھائی میں نے تجھے طلاق دے دی نا “صورتِ مسئلہ میں بی بی پر دو طلاق واقع ہوئی یا دو سے زیادہ ؟زوجین ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟جبکہ شوہر بھی اقرار کرتا ہے کہ میں نے دو ہی طلاق دی ہے اور ”بھائی میں نے تجھے طلاق دے دی نا “سےمیری مراد طلاق دینا نہیں تھا ،بلکہ دو دن پہلے طلاق دی ہوئی بات کو بتانا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر نے اپنی بیوی کو17 جنوری 2025 کو ان الفاظ ” ہم نے تجھے طلاق دی، طلاق دی “کے ساتھ طلاق دی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہیں اور دورانِ عدت رجوع کر لینے سے رجوع بھی درست ہو کر دونوں کا نکاح برقرار ہے، جبکہ دو تین دن کے بعد کہے گئےمذکور الفاظ” بھائی میں نے تجھے طلاق دے دی نا،بھائی میں نے تجھے طلاق دے دی نا “سے اگرمزید طلاق دینے کی نیت نہیں تھی،بلکہ سابقہ دو طلاقوں کی خبر دینی تھی تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اوردونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، مگر آئندہ شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لے۔
کمافی البدائع: ولو قال عنيت بالثاني الإخبارعن الأول لم يصدق في القضاءلأن هذه الألفاظ في عرف اللغة والشرع تستعمل في إنشاء الطلاق فصرفها إلى الإخبار يكون عدولا عن الظاهر فلا يصدق في الحكم المدعو ويصدق فيمابينه وبين الله تعالى لأن صيغتها صيغة الإخبار ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار الخ(فصل ومنھا النیۃ فی احد نوعی الطلاق،ج:3،ص:102،ط:سعید)۔
وفی النھر الفائق :لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولا ينوي لا تطلق الخ( كتاب الطلاق ، باب الثلاث الصريح ، ج:2 ، ص:325 ، ط:دار الكتب العلمية)۔