میرے شوہر نے کہا کہ "اگر تم کسی غیر محرم سے بات کرو گی، تو میں ہوش و حواس میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں"بعد میں اُنہوں نے وضاحت کی کہ اُس وقت میری نیت صرف باہر کے غیر محرم لوگوں کی تھی، فیملی (مثلاً کزن وغیرہ) شامل نہیں تھے،اب ایسا ہوا کہ میرا ایک کزن آیا اور اُس نے مجھے سلام کیا ،تو میں نے انجانے میں سلام کا جواب دے دیا،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح انجانے میں کزن سے بات کرنے (سلام کا جواب دینے) سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے مذکور الفاظ "اگر تم کسی غیر محرم سے بات کرو گی، تو میں ہوش و حواس میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" کہہ دیے ہوں ،تو تینوں طلاقیں معلق ہو چکی تھیں، اورسائلہ کے شوہر کا مطلقاً لفظِ غیر محرم کہنے کیوجہ سے اس میں کزن بھی شامل ہو گیا تھا، لہذا اس کے بعد منفصل استثناء(شوہر کا وضاحتی بیان) شرعاً معتبر نہیں،چنانچہ اس کے بعد سائلہ پر اپنے کزن کے ساتھ بات کرنے کیوجہ سے معلق کی ہوئی تینوں طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گےجبکہ سائلہ ایامِ عدّت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
قال اللہ تعالی: (فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة:230)۔
وفی الفقه على المذاهب الأربعة : وإذا حلف لا يكلم فلاناً فاقتدى الحالف بالمحلوف عليه ( الی قولہ) وكذا إذا صلى المحلوف عليه إماماً بجماعة فيهم الحالف، فإن الحالف لا يحنث بالتسليم من الصلاة رداً على المحلوف عليه، أما إذا سلم الحالف على قوم خارج الصلاة فيهم المحلوف عليه فإنه يحنث ولو لم يعلم به، وسواء سمعه المحلوف عليه أو لم يسمعه الخ(مبحث إذا حلف لا يكلمه ونحو ذلك،ج2 ،ص 113،ط: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)۔
وفی المبسوط للسرخسی: فإن مقصود الرد حاصل بالتسليمتين إذ لا فرق في الجواب بين أن يقول عليكم السلام وبين قوله السلام عليكم الخ قبیل مکروہات الصلوۃ،ج 1،ص 81،ط: موقع الإسلام)۔
وفی الدر المختار: وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود(الی قولہ) وكونه متصلا إلا لعذر الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وكونه متصلا إلخ) أي بلا فاصل أجنبي الخ(باب التعليق،ج 3،ص343،ط:سعید)۔
وفیہ ایضا: (قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا) إلا لتنفس أو سعال أو جشاء أو عطاس أو ثقل لسان أو إمساك فم أو فاصل مفيد لتأكيد أو تكميل أو حد أو طلاق، أو نداء كأنت طالق يا زانية أو يا طالق إن شاء الله صح الاستثناء بزازية وخانية، بخلاف الفاصل اللغو كأنت طالق رجعيا إن شاء الله وقع وبائنا لا يقع الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قوله متصلا) احتراز عن المنفصل، بأن وجد بين اللفظين فاصل من سكوت بلا ضرورة تنفس ونحوه أو من كلام لغو كما يأتي وقيد في الفتح السكوت بالكثير الخ(مطلب مسائل الاستثناء والمشيئة،ج 3،ص 367،ط:سعید)۔
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل ان یقول : إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق الخ (کتاب الطلاق، باب الایمان فی الطلاق،ج 2، ص 385)۔
و فی البحر الرائق: لو قال إن كلمت فلانا فأنت طالق وإن كلمت انسانا فأنت طالق فكلمت فلانا تطلق تطليقتين بحكم اليمينين الخ ( باب التعلیق،ج 4،ص 8،ط:دار المعرفۃ)۔
وفی الدر المختار:(بخلاف السلام على إنسان) للتحية، أو على ظن أنها ترويحة مثلا، أو سلم قائما في غير جنازة (فإنه يفسدها) مطلقا، وإن لم يقل عليكم (ولو ساهيا) فسلام التحية مفسد مطلقا، وسلام التحليل إن عمدا(ورد السلام) ولو سهوا (بلسانه)الخ(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج 1،ص 615،ط:سعید)۔