بیوی کی غیر موجودگی میں سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے بیوی کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں، بلکہ بیوی کی عدم موجودگی میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں اس کے والد یعنی اپنے سسر کے سامنے صریح الفاظ میں تین بار طلاق کے الفاظ ادا کردے، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکے گا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح ہو سکے گا،بلکہ دونوں پر لازم ہوگا کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی المصنف لإبن أبی شیبۃ: عن الحسن و خلاس: فی الرجل یطلق امرأتہ و ھو غائب عنھا، قالا: تعتد من یوم یأتیھا الخبر ( کتاب الطلاق، ج: 10، ص: 133، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ )۔
و فی رد المحتار: و لا یلزم کون الإضافۃ صریحۃ فی کلامہ لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ الخ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: سعید )۔
وفی بدائع الصنائع: و اما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک، وزوال حل المحلیۃ ایضا حتی لایجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر، لقولہ عز و جل (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ سواء طلقھا ثلاثا متفرقا أو جملۃ واحدۃ الخ( فصل فی حکم الطلاق البائن، ج: 3، ص: 187، ط: ماجدیۃ )۔
و فی الھدایۃ :و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "الخ (کتاب الطلاق، ج: 2، ص: 97، ط: البشری )۔