کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو 2 مئی 2025 کو کلمہ توحید پڑھ کر کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "دوسرے دن لڑکی کی ماں کو کال کرکے کہا کہ " میں تمہاری بیٹی کو صبح طلاق دے کر بھیج دوں گا" چند دن بعد مجھے پھر کہاکہ "میں نےتمہیں طلاق دی" اس وقت سے اب تک تین حیض کی مدت گزرچکی ہے ،اور اب تک رجوع نہیں کیا گیا، مجھ پرکتنی طلاقیں واقع ہو ئیں؟ براہِ مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعۃً شخص مذکور نے اپنی بیوی کوکلمہ توحید پڑھ کر مؤرخہ 2 مئی 2025کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "اور اس کے چند دن بعد دوسری مرتبہ "میں نےتمہیں طلاق دی " کے الفاظ کہہ دیےہوں ،تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھیں ،جبکہ مذکور الفاظ " میں تمہاری بیٹی کو صبح طلاق دے کر بھیج دوں گا" سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہذا شوہر کو دوران ِ عدت رجو ع کا حق حاصل تھا، چنانچہ شوہر نے اگر واقعۃً دورانِ عدت زبانی طور پر یاعملاً میاں بیوی والا تعلق قائم کرکےرجوع نہ کیا ہو(جیسا کہ سوال میں لکھا ہے) تو عدت گزرنے پر میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے، اور عورت اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، البتہ اگردونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں،اور ان کے درمیان واقعۃً فقط دو ہی طلاقیں ہو چکی ہوں،شوہر نے اسےاوپر ذکرکردہ الفاظ کے علاوہ تیسری طلاق نہ دی ہو تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنےکے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم شوہر کے پاس آئندہ کے لئے فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافي الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة الخ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (و) تصح (بتزوجها في العدة) به يفتى جوهرةاھ(3/398)۔
وفی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهدايةاھ( 1 /470 ط:ماجدیہ)۔
وفی الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473)۔
وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام اھ(1/38)۔