بخدمت جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک مکان ہے کسی کو میں نے فروخت کا ارادہ کیا ہے، تو ا س کے خرید کے لئے ایک بینک منیجر آیا، اس کے ساتھ بات ہو رہی تھی ، اس دوران ،مجھے ایک دوست جو عالم دین ہے، مجھے منع کیا کہ اس کے ساتھ سودا مت کر ے، کیونکہ اس کا مال (حرام غیر مملوک ہے) اس کے ساتھ آپ کا سودا شرعی طریقے سے نہیں ہوتا، آپ کے مکان کے عوض میں جو مال دے گا، وہ مال آپ کے لئے حرام ہے، اور جب آپ اس مال سے کوئی اور چیز خریدیں گے، وہ بھی حرام رہے گی، اور مال سے صدقہ خیرات بھی نہیں ہوتا،لہذا شریعت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور خریدار کی ملکیت میں اگر واقعۃً بینک سے حاصل شدہ آمدن کے علاوہ کوئی دوسری جائز اور حلال ذریعہ سے حاصل کی گئی رقم بھی موجود ہو یا وہ قرض لے کر رقم کی ادائیگی کردے، تب تو اسے بیچنا جائز اور درست ہے، ورنہ اس پر فروخت کرنے سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لا يطيب له ولا للمشتري منه، الخ (5/98)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئا؛ لأنه ملكه بكسب خبيث،الخ (5/98)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله وفي الأشباه إلخ) (الی قولہ) سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام اهـ. الخ (6/385)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1