السلام علیکم ورحمۃاللہ! میری نیت اور ارادہ صرف ایک طلاق دینے کا تھا، کچہری میں اسٹامپ فروش نے مجھے بتایا کہ وقفے وقفے سے تین طلاق دینے سے ایک طلاق ہو جاتی ہے،چنانچہ اسٹامپ فروش نے تین فارم تیار کیے اور مجھے کہا کہ ہر مہینے دستخط کر کے بھیج دینا ،میں نے ویسے ہی کیا،اب پتہ چلا کہ وہ اسٹامپ فروش میری طرح شرعی اور عائلی قوانین سے نا واقف تھا ،اور مجھے افسوس ہوا کہ اتنے اہم ترین کاغذات کی تیاری کا کام ایک میری طرح جاہل اسٹامپ فروش کو کیوں دے دیا گیا؟مجھے شدید رنج اور شرمندگی ہے کہ میں نے طلاقِ شرعی اور عائلی قوانین کے مطابق نہیں دی ،میری شدید خواہش ہے کہ موت آنے سے پہلے میں اپنے معاملات درست کر لوں ،آپ سے فتوی جاری کرنے کی درخواست کرتا ہوں کہ میری اصل میں کون سی طلاق واقع ہوئی ہے ؟اور کیا میں اب بھی رجوع کر سکتا ہوں؟اللہ آپ کو آپ کی رہنمائی اور مدد کا اجر عطا فرمائے۔
سائل نے اگر چہ شرعی مسئلے سے لاعلمی اور اسٹامپ فروش کی غلط رہنمائی سے بیک وقت تحریری طور پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں ،تب بھی شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراًایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ( سورۃ البقرۃ: 230)۔
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )۔
و فی رد المحتار تحت: (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ( الی قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع الخ( کتاب الطلاق ج 3 ص 246ط:سعید)۔
وفیہ أیضا: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. الخ( ج 3ص 246 ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج:1، ص:473، ط: ماجدیہ) ۔