کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:میں اصغر خان ولد بخت دیر خان نے نکاح کرنے کے بعد اور رخصتی سے پہلے اپنی زوجہ سے بغیر ملے ،بغیر مباشرت کے اپنی بیوی کو اسکے طلاق کے مطالبہ کرنے پر طلاق دی ہے ،بیوی نے کہا مجھے آزاد کردو ،تو میں نے کہا میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ،یہ جملہ تین دفعہ استعمال کیا ،طلاق پشتو میں دی جس کے الفاظ یہ (طلاق یے ،طلاق یے ،طلاق یے )تھے ،کیا اب میں اس سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہوں ،نکاح کی یہ تاریخ 2020۔05۔19 ،طلاق کی یہ تاریخ 2023۔02۔28 تھی ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اسمیں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے رخصتی اور خلوت صحیحہ سے قبل مذکور الفاظ"طلاق یے ،طلاق یے ،طلاق یے"(طلاق ہو،طلاق ہو ،طلاق ہو)سے بیوی کو طلاق دی ہو تو پہلی طلاق سے بالکلیہ نکاح ختم ہوچکا اور بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں،تاہم اب اگر دوبارہ باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرکے تجدید نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ،البتہ اس صورت میں آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: قال لزوجتہ غیر المدخول بہا انت طالق ثلاثا وقعن ،وان فرق بوصف او خبر او جمل بعطف او غیرہ بانت بالاولی لا الی عدۃ ولذا لم تقع الثانیۃ بخلاف الموطوءۃ حیث یقع الکل الخ
وفی الشامیۃ: قولہ وان فرق بوصف : نحو انت طالق واحدۃ وواحدۃ وواحدۃ ،او خبر نحو: انت طالق طالق طالق ۔(3/286)
وفی الھندیۃ: اذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی العدۃ وبعد انقضائہا ولا فرق فی ذلک بین کون المطلقۃ مدخولا بہا او غیر مدخول بہا۔(1/472)