حضرت میں اپنی فیملی کے ساتھ دس سال سے دبئی میں رہتا ہوں، میرا گھر کرایہ کا ہے،اگر میں اس کرایہ کی رقم کو اسلامک مورگیج کرتا تو اب تک یہ گھر میرا ہوتا، مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ فلیٹ لینے کے پورے پیسے نہیں ہے، میں اسلامک مورگیج لے لوں،جو کہ مجھے بیس سال کا مل سکتا ہے، مگر میں اس کو جلد سے جلد ختم کروں گا، اسلامک بینکنگ میں یہ لوگ قسطوں پر دیتے ہیں، مگر جو قسطیں یہ طے کرتے ہیں، اس میں پرنسپل یعنی اصل رقم سمیت منافع بھی شامل کرتے ہیں، منافع کے ساتھ کابور کی مد میں کچھ رقم شامل ہوتی ہیں، اسلامک بینک ہو یا غیر اسلامی دونوں میں کابور کا کردار ہوتا ہے، کیونکہ سینٹرل بینک ایک ہے، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
واضح ہو کہ مارگیج کے ذریعے حصول مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہوتو بلاشبہ ناجائز ہے، اور اس سے احتراز لازم ہے،البتہ اگر کوئی شخص، ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلیں، اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعے قسطوں پر بیج دیں اور اس طرح قسطوں کے معاملے میں ابتداءً ہی یہ طے کر لیا جائے یہ ادھار اور قسطوں کا معاملہ ہوگا، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی، کوئی چارجز بھی وصول نہ کی جاتی ہوں تو اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز ہے، لہذا سائل کیلئے درج بالا طریقہ کار کے مطابق معاملہ کر کے ذاتی مکان کا مالک بننا جائز اور درست ہے۔