السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
میں اپنے نکاح اور طلاق کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔ براہ کرم درج ذیل تفصیلات کی روشنی میں ہمارا مسئلہ دیکھ کر فتویٰ عنایت فرمائیں:
1. میرا نکاح 3 مارچ2022 کو فیصل کے ساتھ ہوا۔شادی کے شروع ہی سے میرے سسرال والے چاہتے تھے کہ یہ رشتہ نہ چلے اور وہ میرے شوہر پر دباؤ ڈالتے رہے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں میرے شوہر نے مجھے طلاق دی۔ طلاق کے الفاظ یہ تھے: " میں اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں. یہ الفاظ ایک ہی وقت میں دیے گئے (تین بار ایک ساتھ)میرے شوہر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ طلاق اپنی نیت اور دل کی خواہش سے نہیں دی، بلکہ دباؤ میں آکر دی۔ اب وہ خود بھی پریشان اور نادم ہیں۔ہم دونوں چاہتے ہیں کہ اگر شریعت اجازت دے تو دوبارہ اکٹھے رہیں۔
ہمارے سوالات یہ ہیں: کیا یہ تین طلاق ایک ساتھ واقع ہو گئی ہیں یا ایک ہی شمار ہو گی؟ کیا اس صورت میں رجوع ممکن ہے؟ اگر ہے تو کس طریقے سے؟ اگر رجوع ممکن نہیں ہے تو ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں ،تاکہ ہم سکونِ قلب کے ساتھ اللہ کی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً، والسلام۔ خاکسار
واضح ہو کہ اسلام میں نکاح کی حیثیت محض ایک سماجی معاہدے کی نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس اور پُرخلوص رشتہ ہے۔ اس لیے نکاح سے قبل شریعت نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنے لیے مستقبل کا فیصلہ کرلیں ۔ لیکن جب مرد اور عورت ایک دوسرے کے نکاح میں آ جاتے ہیں تو وہ ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد شریعتِ مطہرہ نے اس رشتہ کو قائم رکھنے یا ضرورت کے وقت ختم کرنے کا شوہر کو اختیا دینے کے ساتھ ساتھ شریعت نے مرد کو تحمل، بردباری اور معاملے کی اصلاح کی مکمل کوشش کرنے کا بھی حکم دیا ہے، اور طلاق میں جلد بازی سے سختی سے منع کیا ہے۔ لیکن اگر شوہر کسی بھی طریقے سے اپنا یہ حق استعمال کرتے ہوئے زبانی یا تحریری طور پر اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے تو اس سے ان کا نکاح ختم ہوکر دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتےہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہواس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے مذکورہ جملہ ” میں اپنے پورے ہوش و حواس میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں“ بیوی کو کہہ دیاہو، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے۔ جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
جبکہ حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام ِ عدت گزار نے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری ( جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزار نے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ، تا ہم حلالۂ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہو جائے، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیث مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئیں ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللہ تعالی : فإن طلقھا فلا تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ( البقرۃ : 230 )-
و فی الھندیۃ : و إن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا کذا فی الھدایۃ إلخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:1 ، ص: 473، ناشر: ماجدیۃ )-
وفی الدر المختار: ( والبدعی ثلاث متفرقۃ أو ثنتان بمرۃ أو مرتین فی طھر واحد إلخ
وفی الشامیۃ تحت ( قولہ و البدعی ) منسوب إلی البدعۃ ، والمراد بھا ھنا المحرمۃ لتصریحھم بعصیانہ بحر ( قولہ ثلاث متفرقۃ ) و کذا بکلمۃ واحدۃ بالأولی إلخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 232 ، ط سعید )-
وفی البحر : ( قولہ و ثلاثاً فی طھر أو بکلمۃ بدعی ) أی تطلیقھا ثلاثاً متفرقۃ فی طھر واحد أو ثلاثاً بکلمۃ واحدۃ بدعی أی منسوب إلی البدعۃ والمراد بھا ھنا المحرمۃ لأنھم صرحوا بعصیانہ إلخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 239 ، ط ماجدیۃ )-