میاں بیوی اگر دو سال سے ایک دوسرے سے ناراض ہیں اور آپس میں جنسی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں اور بات چیت بھی بند ہے لیکن آمنا سامنا ہوتا ہے ایک گھر میں رہتے بھی ہیں تو کیا ان کا نکاح ختم ہو جائے گا؟
واضح ہو کہ نکاح کے منعقد ہونے کے بعد اس وقت تک نکاح ختم نہیں ہوتا ہے جب تک نکاح کے ختم ہونے کے اسباب (مثلاً طلاق، لعان، فسخ نکاح وغیرہ) میں سے کوئی سبب نہ پایا جائے۔ لہذا صورت مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ رہنا اور بات چیت کا بند ہونا، نکاح کے ختم ہونے کے اسباب میں سے نہیں ہے اس لیے محض اس وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوگا بلکہ ان کا نکاح بدستور قائم ہے تاہم میاں بیوی کا عرصہ دراز تک ایک دوسرے سے لا تعلق رہنا چونکہ فریقین کے کئی حقوق ضائع ہونے کا سبب ہے اس لیے یہ طرز عمل قطعاً مناسب نہیں، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ باہمی اختلافات کو ختم کر کے گھر بسانے کی کوشش کریں، تاکہ اللہ تعالٰی کی ناراضگی اور شیطان کی خوشنودی سے بچا جا سکے۔
كمافي شرح المجلة للأتاسى: "الأصل بقاء ما كان على ما كان" يعني أن الذي ثبت على حال في الزمان الماضي ثبوتا أو نفياً، يبقى على حاله ولا يتغير ما لم يجد دليل بغيره..الخ.(ج:1،ص:20،مكتبةإسلاميةكوئٹہ)