میری شادی تایا زاد سے ہوئی ہے ۔میرے سسر نے جب میں سو رہی تھی تو میری شرم گاہ کو ہاتھ لگایا اور جب میں کمرے میں اکیلی ہوتی تو میرے کمرے میں آ کر زبردستی میرے چہرے کا بوسا لیتے۔ یہ بات میں نے شوہر کو بتائی تو ان کے پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ یہ سب جنات نے کیا ہے میں نے نہیں ،کیا یہ کام واقعی جنات کا ہو سکتا ہے اور اس سے کیا میں اپنے شوہر کے لیے حرام ہو گئی ہوں؟
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اپنی بہو کو بلا حائل شہوت کے ساتھ چھولے یا حائل تو ہو مگر جسم کی حرارت اسے محسوس ہو اور شوہر بھی اس بات کی تصدیق کر دے ،تو وہ عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوجاتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس طور پر کہ سائلہ کے سسر نے واقعۃً سائلہ کی شرمگاہ کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگایا ہو،یا بغیر کسی حائل کے سائلہ کو شہوت کے ساتھ چھوا ہو، اور شوہر بھی سائلہ کی اس بات کی تصدیق کر تا ہو،تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو کر سائلہ اپنے شوہر پر ہمیشہ کےلئے حرام ہوچکی ہے، اب دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ شوہر پر لازم ہے کہ الفاظِ متارکت کہہ کر سائلہ کو اپنے نکاح سے فارغ کر دے، تا کہ وہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو،جبکہ سائلہ کے سسر کا اپنے اس ناجائز حرکت کو جنات کا عمل قرار دیکر خود کو برئ الذمّہ قرار دینا درست نہیں،بلکہ اسے اپنے اس عمل پر بصدقِ دل توبہ واسغفار اور آئندہ کے لئے ایسے ناجائز امور سے اجتناب لازم ہے،اور سائلہ کو بھی اپنے تایا سے میل جول کے بجائے مکمل پردے کا اہتمام کرنا چاہیئے ۔
کما فی الھندیۃ:وإذا قبلها ثم قال: لم يكن عن شهوة أو لمسها أو نظر إلى فرجها ثم قال: لم يكن بشهوة فقد ذكر الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - في التقبيل يفتى بثبوت الحرمة ما لم يتبين أنه قبل بغير شهوة وفي المس والنظر إلى الفرج لا يفتى بالحرمة إلا إذا تبين أنه فعل بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس والنظر، كذا في المحيط. هذا إذا كان المس على غير الفرج وأما إذا كان على الفرج فلا يصدق أيضا، كذا في الظهيرية وكان الشيخ الإمام الأجل ظهير الدين المرغيناني يفتي بالحرمة في القبلة في الفم والخد والرأس وإن كان على مقنعة وكان يقول لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة ( الی قولہ) رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة الخ (القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج 2،ص 276،ط: ماجدیۃ)۔
وفي محيط البرهاني: وكان الشيخ الإمام ظهير الدين رحمه الله يفتي بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس وإن كان على المقنعة وكان يقول : لا يصدق في أنه لم يكن بشهوة، الخ ( الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج 3، ص 66، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-