السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
حضرت عملیات میں ناد علی کے بارے میں بعض لوگ یہ تاویل کرتے ہے اس میں "علی"سے اگراللہ تعالیٰ کا صفتی نام مراد لیا جائے تو پھر اسے پڑھنا درست ہے،یعنی ناد علی جل جلالہ،تو کیااس طرح شرعا جائز ہے؟ دلیل کے ساتھ رہنمائی چاہئے۔
واضح ہو کہ "نادِ علی" کا ترجمہ ہے: "علی کو پکارو"، اس جملے (نیز اس وظیفے سے مراد دیگر کلمات) میں غیر اللہ سے اس کے انتقال کے بعد استغاثہ مدد طلب کرنے کا ایہام ہوتا ہے،اس لیے اس جملہ کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، خواہ وہ عملیات میں ہو یا ویسے ہی ہو، البتہ اللہ جلہ جلالہ کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام "العَلِیُّ" ہے، جبکہ فقط"علی" مخصوص شخصیت کا نام کا ہے، جوذہنوں میں معہود بھی ہے، لہذا اگر نیت اللہ جلہ جلالہ کے نام یا صفات کی ہو تب بھی چونکہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام سے اشتباہ پایا جاتا ہے جو موہم شرک بھی ہے، اس سبب سے بھی اگر وظیفہ پڑھنا ہو تو اس کے لیے اللہ جل جلالہ کے صفاتی ناموں میں سے کوئی دوسرا نام اختیار کیا جائے یا حل مشکلات اور عملیات کے لیے اور بھی بہت سے وظائف مسنونہ احادیث میں بیان ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو موقع ومناسبت کے لحاظ سے کسی معتبر عالم سے معلوم کرکے پڑھ لیا جائے۔
فی مشکاۃ المصابیح: عن عوف بن مالک الأشجعی - رضی اللہ عنہ - قال: کنا نریٰ فی الجاهلية فقلنا یا رسول اللہ! کیف تری فی ذلك؟ فقال: اعرضوا علیّ رقاکم، لا بأس بالرقی مالم یکن فیه شرک۔ اھـ (کتاب الطب والرقی: ص۳۸۸)۔
و فی فتح الباری لإبن حجر: و قد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه و صفاته و باللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره و أن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى و اختلفوا فى كونها شرطا و الراجح أنه لا بد من اعتبار الشروط المذكورة ففي صحيح مسلم من حديث عوف بن مالك قال كنا نرقى فى الجاهلية فقلنا يا رسول الله كيف ترى فى ذلك فقال اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك و له من حديث جابر نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرقى فجاء آل عمرو بن حزم فقالوا يا رسول الله إنه كانت عندنا رقية نرقي بها من العقرب قال فعرضوا عليه فقال ما أرى بأسا من استطاع أن ينفع أخاه فلينفعه و قد تمسك قوم بهذا العموم فأجازوا كل رقية جربت منفعتها و لو لم يعقل معناها لكن دل حديث عوف أنه مهما كان من الرقى يؤدي إلى الشرك يمنع و ما لا يعقل معناه لا يؤمن أن يؤدي إلى الشرك فيمتنع احتياطا إلخ۔ (باب الرقی، ج: 10، ص: 195، ط: دار المعرفہ)۔
و فی لمعات التنقیح: الرقية جائزة فى كل داء و علة و من عين الإنسان و الجن بالقرآن و الأسماء الإلٰهية خالصة أما بغيرها مجردة أو مخلوطة فلا و كذا بما لم يعلم معناه إلا إذا ثبت من جانب الشارع كما في رقية العقرب إلخ۔ (کتاب الطب الرقی، ج: 7، ص: 487، ط: دار النوادر)۔
و فى رد المحتار: تحت (قولہ التمیمۃ المکروه) و لا بأس بالمعاذات اذا كتب فيها القرآن او اسماء الله تعالى (إلی قولہ) و اما تكره العوذة اذا كانت بغير لسان العرب و لا يدرى ما هو و لعله يدخله سحر او کفر او غير ذلك إلخ۔ (کتاب الحظر و الاباحۃ، ج: 6، ص: 363،ط: سعید)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله التميمة المكروهة) (إلی قولہ) و لا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالى (إلی قولہ) و انما تکرہ العوذۃ کانت بغیر لسان العرب و لا یدری ما ھو و لعلہ یدخلہ سحرا و کفر او غیر ذللک اما ما کان من القرآن او شئ من الدعوات فلا بأس بہ إلخ۔ (فصل فی البس، ج: 6، ص: 363، ط: سعید)۔