کیا اپنی جائیداد میں سے اپنی بیٹی کو اس کا حصہ میں اپنی حیات میں ہی دے سکتا ہوں؟ وضاحت فرمائیں۔
کوئی بھی شخص اپنی مرضی و خوشی سے اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ اپنی زندگی میں کسی بیٹی یا بیٹے کو دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے، البتہ یہ حصہ دینا شرعاً ہبہ و گفٹ کہلائے گا، جس سے اس کا آئندہ مستقبل میں ترکہ میں سے حصۂ میراث ساقط نہ ہوگا، جبکہ اگر اس شخص کی دیگر اولاد بھی موجود ہو، تو مستحب یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر رکھے ، کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی ، یا دین داری وغیرہ امور کی بناء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے مگر بلا وجہِ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن النعمان بن بشیر أن أباہ أتی بہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال: إنی نحلت ابنی ھذا غلاماً، فقال: أ کل ولدک نحلت مثلہ؟ قال: لا قال: فأرجعہ و فی روایۃ قال: فاتقوا اللہ واعدلوا بین أولادکم الخ ( باب العطایا، ج: 1، ص: 261، ط: قدیمی )۔
و فی شرح المجلۃ: کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء( الی قولہ) لأن کون الشیئ ملکاً لرجل یقتضی ان یکون مطلقاً فی التصرف فیہ کیف شاء الخ ( الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک، ج: 4، ص: 132، ط: مکتبۃ اسلامیۃ)۔
و فی رد المحتار: وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 5، ص: 696، ط: سعید)۔
و فی التاترخانیۃ: قال مشایخ العراق: الارث یجری فی آخر جزء من أجزاء حیاۃ الموّرِث، و قال مشایخ بلخ: الارث یجری بعد موت المورِّث الخ ( الفصل الرابع فی بیان الوقت الذی یجری فیہ الارث، ج: 20، ص: 215، ط: رشیدیۃ)۔
و فی البدائع: و ینبغی للرجل أن یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ تعالی "إن اللہ یأمر بالعدل و الإحسان " الایۃ ( الی قولہ) و لان التسویۃ تألیف القلوب و التفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویۃ أولی و لو نحل بعضاً و حرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی ملکہ لا حق لأحد فیہ إلا أنہ لا یکون عدلاً الخ ( کتاب الھبۃ، ج: 6، ص: 127، ط: سعید )۔