I gave my wife one talaq. During her iddah period she was staying at her parents’ house. It was only one divorce, sent through a written paper — not multiple divorces. After about one month, during the iddah, we engaged in something intimate over a video call. Because of this, we are confused whether the talaq became invalid or not. We are meeting each other and everything is normal between us, but due to this confusion she is still living at her parents’ home. Does this intimate interaction during iddah cancel or revoke the talaq?
(سوال کا اردو ترجمہ)
میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔ ایک طلاق کی عدت کے دوران وہ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ یہ صرف ایک ہی طلاق تھی، جو میں نے تحریری طور پر بھیجی تھی — متعدد طلاقیں نہیں تھیں۔ تقریباً ایک ماہ بعد، عدت کے دوران، ہمارا ویڈیو کال پر کچھ ایسا عمل ہوا جو شرعی طور پر قربت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس وجہ سے ہم دونوں اس بات میں الجھن کا شکار ہیں کہ کیا طلاق ختم (باطل) ہوگئی یا نہیں؟ ہم ایک دوسرے سے مل بھی رہے ہیں اور سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، لیکن اسی الجھن کی وجہ سے وہ ابھی بھی اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہے۔ کیا عدت کے دوران اس قسم کی قربت طلاق کو کالعدم یا رجوع شمار کرتی ہے؟
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ سائل نے اپنی بیوی کو کن الفاظ کے ساتھ تحریری طلاق دی ہے،تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر سائل نے اپنی بیوی کو واضح الفاظ جیسے (میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،یا میں نے تمہیں طلاق دی وغیرہ) کے ساتھ تحریری طلاق دی ہو،اس سے پہلے یا بعد میں مزید کوئی اور طلاق نہ دی ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد سائل کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل تھا،چنانچہ سائل نے اگر واقعۃً دورانِ عدت ویڈیو کال کے ذریعہ زبانی طور پر رجوع کرلیا ہو،(مثلاً:میں نے تجھ سے رجوع کیا،آپ میری بیوی ہو،وغیرہ الفاظ کہے ہوں)یا عمل کے ذریعے رجوع کیا ہو(جیسے:ہمبستری کرنے یا بوس وکنار کرنے وغیرہ سے)تو اس سے دونوں کا رجوع درست ہوگیا،اور دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے،لہٰذا دونوں کا اب میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہناشرعاً درست ہے،البتہ آئندہ کےلئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ : واذاطلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک او لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ ( ج 1 صـ 470 کتاب الطلاق ط : ماجدیۃ ) ۔
وفیھا ایضا : ( فالسنی ) ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقولھا : راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو یدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و ان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا الا انہ یکرہ لہ ذلک و یستحب ان یراجعھا بعد ذلک بالاشھاد الخ ( ج 1 صـ 467 کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ط : ماجدیۃ )