کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان دین عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سائل گزشتہ رات بعدازعشاء اپنے ماموں کے گھرجارہاتھا کہ بیچ راستے میں چارنقاب پوش بندوں نے گھرکے قریب سے مجھے اسلحے کے زورپراغواکرکےزبردستی اپنے گاڑی میں بٹھاکرنامعلوم جگہ لے کرگئے،اس دوران تشددبھی کرتے رہے۔پھرایک مقام میں پہنچ کرمیری بیوی کی شناختی کارڈکی فوٹوکاپی بذریعہ موبائل دکھایا اورکہاکہ ہم صرف دوکام چاہتے ہیں:(1) یہ کہ آپ کوقتل کردیں (2)یا تم اپنی بیوی کوطلاق کردو۔ پھرایک نے ہوائی فائر بھی کی اوروہ تصویردکھاکرکہاکہ اس کوپہچانتے ہو؟ میں نے کہایہ میری بیوی ہے،اُنہوں نے کہااس کوطلاق کرو،ورنہ ہم تجھے قتل کریں گے ۔اس پرسائل نے مجبوراًاپنی بیوی کے ماں باپ کے نام لیتے ہوئے طلاق کے یہ الفاظ کہے ہیں:" رضاء ولی اورحسینہ کی بیٹی قندیل مجھ سے ایک،دو،تین شرطوں کے ساتھ طلاق "پھرتین کنکری بھی ڈالی ہے۔
اب پوچھنایہ ہے کہ اس اکراہ کی حالت میں کہے ہوئے الفاظ سے سائل کی بیوی پرشرعاًطلاق واقع ہوئی ہے یانہیں؟وضاحت فرمائیں۔
واضح ہوکہ حالتِ جبر واکراہ میں زبانی طور پر طلاق دینے کی صورت میں بھی شرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے مذکور بندوں کی طرف سے قتل کی دھمکی دینے پر اپنی بیوی کے ماں باپ کا نام لیتے ہوئے مذکور الفاظ ” رضاء ولی اورحسینہ کی بیٹی قندیل مجھ سے ایک،دو،تین شرطوں کے ساتھ طلاق “ زبانی طور پر کہہ دیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
وفی الدر: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق الخ۔ (کتاب الطلاق، ج:3، ص: 235، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة الخ (فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه کتاب الطلاق، ج: 1، ص: 353، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: و البدعی ثلاث متفرقۃ أو ثنتان بمرۃ أو مرتین فی طھر واحد (لا رجعۃ فیہ أو واحدۃ فی طھر وطئت فیہ الخ۔
و فی الشامیۃ تحت: (قولہ و البدعی) منسوب إلی البدعۃ و المراد بھا ھنا المخرمۃ لتصریحھم بعصیانہ بحر ( قولہ ثلاثۃ متفرقۃ) و کذا بکلمۃ واحدۃ بالأولی الخ (کتاب الطلاق ج: 3، ص: 232، ط: سعید)۔
فتاوی فریدیہ میں ہے سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ان الفاظ میں طلاق دی ہے کہ تو مجھ پر تین شرط پر طلاق ہے کیا اس سے تین طلاق پڑتی ہیں حالانکہ لفظ شرط لغو معلوم ہوتا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: ہمارے بلاد کے عرف میں تین شرط تین دفعہ کو کہا جاتا ہے اس لئے اس عرف کی بنا پریہ بیوی مطلقہ مغلظہ ہوئی ہے ۔ (ج: 5، ص: 281)۔