قا ری صاحب، آپ کیسے ہیں؟ جیسا کہ آپ سے مسجد میں تھوڑی بات ہوئی تھی اور میں نے اپنا کیس بتایا تھا، وہ طلاق والا معاملہ ہے، تو میں اب آپ کو تفصیل بتا دیتا ہوں۔
میری ایک بیٹی ہے، تین سال کی، اللہ کا شکر ہے۔ میری بیوی بھی ہے۔ میں اس کو پہلے دو طلاق دے چکا تھا۔ پہلی طلاق تقریباً تین سال پہلے دی تھی اور دوسری دو سال پہلے۔ لیکن اصل میں یہ طلاقیں زبردستی کی حالت میں ہوئیں۔ لڑائی اور دھمکیوں کے بعد میں نے مجبوری میں دی تھیں۔ اور ان طلاقوں کے بعد بھی ہم کبھی الگ نہیں ہوئے تھے۔ ہم ساتھ ہی گھر میں رہتے تھے، ایک ساتھ ہی زندگی گزارتے تھے۔
ایک طلاق میں نے فون پر دی تھی اور ایک سامنے۔
ابھی حال ہی میں ایک واقعہ ہوا۔ میری بیٹی آٹزم کی مریض ہے اور اس کو اپنی ماں سے بالکل الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر الگ کریں تو اس کے لئے بہت نقصان دہ ہوگا۔ ایک ہفتہ پہلے ہماری گاڑی میں لڑائی ہوئی۔ میں گاڑی چلا رہا تھا اور وہ صرف دھمکیاں دے رہی تھی اور چیخ رہی تھی کہ میں گاڑی سے کود جاؤں گی۔ میری بیٹی بھی ساتھ تھی۔ اس حالت میں میں بہت پریشان ہو گیا۔ بس اسی دباؤ اور گھبراہٹ میں، اور اس کو روکنے کے لیے، میں نے جلدی میں طلاق کا لفظ بول دیا۔
لیکن میرا کوئی ارادہ نہیں تھا طلاق دینے کا۔ میں صرف اسے روکنا اور ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا۔ مجھے اب تک بھی یقین نہیں ہے کہ میں نے صحیح لفظ کہا بھی تھا یا نہیں، کیونکہ اس وقت دماغ بالکل پریشان تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میں، جب کوئی نیت یا ارادہ نہیں تھا بلکہ صرف دباؤ اور زبردستی میں الفاظ نکل گئے، تو کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ اگر طلاق ہو گئی تو میری بیٹی پر بہت برا اثر پڑے گا، وہ اپنی ماں کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔
براہِ کرم مجھے اس بارے میں رہنمائی دیں کہ شریعت کے حساب سے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں سائل نے اگر سابقہ دو طلاقوں کے بعد دوران عدت رجوع کر لیا تھا تو یہ رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح برقرار تھا جبکہ حالیہ واقعہ میں اپنی بیوی کو صریح الفاظ میں ایک طلاق دی ہو ،اگرچہ اس نے بغیر نیت و ارادہ سے طلاق کے الفاظ ادا کیے ہوں اس کے باوجود سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر تین طلاقوں کے ذریعے حرمت مغلظہ ثابت ہو گئی ہے۔ اب رجوع ممکن نہیں اور نہ ہی حلالۂ شریعہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ،جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے.
کما فی التنزیل العزیز :فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما أن يتراجعا إن ظنا أن يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون (230)
و فی صحیح البخاری :أن عائشة، أخبرته: أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن رفاعة طلقني فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته(11)
وفی الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية(ج:1،ص:473)
وفی الدرالمختار: مطلب في الإكراه على التوكيل بالطلاق والنكاح والعتاق (قوله فإن طلاقه صحيح) أي طلاق المكره وشمل ما إذا أكره على التوكيل بالطلاق فوكل فطلق الوكيل فإنه يقع بحراھ(3/259)